تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 120

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سایہ کو اور زیادہ ممتد کر دیتا ہے۔اسی طرح ہر تائید سماوی اور ہر الٰہی نصرت جو ہمیں حاصل ہوتی ہے وہ صاف طور پر اس حقیقت کو واضح کر رہی ہے کہ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیْلًا۔یہ سب کچھ خدائی نصرت اور تائید سے ہو رہا ہے۔انسانی سامانوں سے نہیں ہو رہا۔آخر وہ کونسی چیز ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دنیا کی اتباع کی ہے۔یا کون سا مسئلہ ہے جس کے متعلق رائج الوقت خیالات کی اصلاح کرنے کی آپ نے کوشش نہیں کی بیسیوں مسائل ہیں جن کے متعلق قرآنی تعلیم کی تشریح کرتے ہوئے آپ نے موجودہ زمانہ کی رَو کے بالکل خلاف اپنے خیالات کا اظہار فرمایا ہے اور لوگوں کے پیچھے چلنے کی بجائے دنیا کو اپنے پیچھے چلایا ہے۔موجودہ زمانہ میں اقتصادیات کی طرف لوگوں کا بہت بڑا رجحان ہے۔چنانچہ کئی لوگ کہا کرتے ہیں کہ مذاہب کی آپس کی جنگ درحقیقت یو نہی ہے اصل جھگڑا روٹی کا ہے اس جھگڑے کا فیصلہ ہو جائے تو مذاہب کی جنگ بالکل ختم ہو جائے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انشورنس اور سود کو منع کر کے بظاہر لوگوں کے لئے روٹی کے سامان بالکل بند کر دئیے ہیں (ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۱۶۷،۱۶۸)۔اگر دنیا میں روٹی کا ہی جھگڑا ہوتا تو چاہیے تھا کہ اس تعلیم کی وجہ سے لوگ حضرت مرزا صاحب سے دُور بھاگتے اور کہتے کہ یہ شخص ہماری روٹی بند کرتا ہے۔ہمیں سود سے منع کرتا ہے ہمیں انشورنس سے روکتا ہے۔ہمیں ہر قسم کی ٹھگیوں اور دھوکا بازیوں سے مجتنب رہنے کی تعلیم دیتا ہے اور یہ چیز ایسی ہے جسے ہم برداشت نہیں کر سکتے۔مگر ہوا یہ کہ اس تعلیم کے باوجود لاکھوں لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف کھنچے چلے آئے۔دوسرے نمبر پر یہ زمانہ مذہبی آزادی کا ہے مسلمانوں کے قدیم سے قدیم خاندان بھی اسلامی ثقافت کو چھوڑتے چلے جاتے ہیں اور مذہب کے خلاف دنیا میں ایک عام روچل رہی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے متبعین کو مذہب کی طرف توجہ دلائی۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے باوجود اس کے کہ ہماری جماعت میں دوسروں سے زیادہ تعلیم ہے پھر بھی وہ لوگ مذہب کی طرف دوسروں سے زیادہ توجہ کر رہے ہیں اور جماعت کے لیڈر اُن کو اس میں زیادہ سے زیادہ پختہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پھر یہ زمانہ سڑائیکوں کا ہے۔جتھے بنا بنا کر حکومتوں کے خلاف کھڑے ہوجانا یا مالکوں اور کارخانہ داروں اور اُستادوں وغیرہ سے اپنے مطالبات منوانےکے لئے سڑائیک کر دینا ایک عام بات ہے۔اور اسے اپنے مطالبات منوانےکے لئے ایک ضروری حربہ تصّور کیا جاتا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سڑائیک سے بھی منع فرما دیا (ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۱۷۲۔۱۷۳)۔مگر باوجود اس کے ہماری جماعت میں کثرت سے طلباء اور گورنمنٹ