تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 117

رہتا ہے مگر یہ لوگ تو اپنے محسن کو چھوڑ کر بھاگے جا رہے ہیں اورا ُس کی عظمت سے ان کے دل خالی ہو چکے ہیں۔ایسے لوگوں نے خدا تعالیٰ کی رحمت اور اُس کے قرب سے کیا حصہ لینا ہے۔اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ ( اے قرآن کے مخاطب) کیا تجھے معلوم نہیں کہ تیرے رب نے کس طرح سایہ کو لمبا کیا ہے اور اگر وہ چاہتا تو سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيْلًاۙ۰۰۴۶ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اسے ایک جگہ ٹھہرا ہو ابنا دیتا۔پھر ہم نے سورج کو اس پر ایک گواہ بنا دیا پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اِلَيْنَا قَبْضًا يَّسِيْرًا۰۰۴۷ اپنی طرف کھینچنا شروع کر تے ہیں۔حلّ لُغَات۔دَلِیْلًا۔اَلدَّ لِیْلُ کے معنے ہیں اَلْمُرْشِدُ۔راستہ دکھانے والا۔مَابِہٖ یَقُوْمُ الْاِرْشَادُ جس کے ذریعہ سے راہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔اردو میں نشان بھی کہتے ہیں۔( اقرب) تفسیر۔فر ماتا ہے کیا تو نے اپنے رب کے اس احسان کو نہیں دیکھا کہ اُس نے کس طرح سائے کو لمبا کر دیا ہے۔وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا اور اگر وہ چاہتا تو وہ اس کو ساکن بنا دیتا۔ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيْلًا پھر ہم نے سورج کو اس پر ایک دلیل بنایا ہے۔یہ آیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور قرآن کریم کے منجانب اللہ ہونے پر ایک زبردست دلیل ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ جب سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں ظہور فرمایا ہے اُس وقت سے لے کر آج تک برابر آپؐ کا سایہ کسی نہ کسی شکل میں ممتد ہوتا چلا جاتا ہے۔آپ ؐ کی زندگی میں ایک ساعت بھی تو ایسی نہیں آئی کہ آپؐ نے ترقی کی طرف قدم نہ اٹھایا ہو۔پہلے ہی دن جب آپؐ پر الہام نازل ہوا اور آپؐ اس بات سے گھبرائے کہ یہ کام میں کیونکر سرانجام دے سکوں گا۔دلوں کا فتح کرنا کوئی معمولی بات نہیں تو آپ اُسی گھبراہٹ میں اپنے گھر تشریف لائے اوراپنی بیوی حضرت خدیجہ ؓ سے اس خدشہ کا اظہار فرمایا کہ اتنی بڑی ذمہ داری خدا تعالیٰ نے مجھ پر ڈال دی ہے۔اب میں کیا کروں۔اس پر پہلا ہی جواب جو آپؐ کی بیوی نے آپ کو دیاوہ یہ تھا کہ کَلَّا وَاللّٰہِ