تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 116
طرح یہ لوگ خدا تعالیٰ پربھی حکومت کرنا چاہتے ہیں اور اپنے آپ کو اس کا کلی طورپر تابع فرمان نہیں سمجھتے۔بلکہ اگر خدا تعالیٰ کی کوئی بات اُن کی سمجھ میں نہ آئے تو وہ بر ملا کہہ دیتے ہیں کہ خواہ یہ بات خدا نے کہی ہو ہم اسے ماننےکے لئے تیار نہیں کیونکہ ہماری عقل اور سمجھ میں نہیں آتی۔یہ ایک ایسا نقص ہے جس میں آجکل کے مغرب زدہ نوجوان بڑی کثرت سے مبتلا ہیں۔وہ بجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کے احکام کے تابع چلیں اور اپنے دلوں میں اُن کی عظمت محسوس کریں وہ خدا تعالیٰ پر بھی اپنی حکومت جتاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا حکم دینے کا مجاز نہیں جسے وہ خود اپنے لئے مفید نہ سمجھتے ہوں۔چنانچہ اس بارہ میں مجھے ایک لطیف مثال یاد آئی۔۱۹۴۷ء یا ۴۸ ء میں مَیں پشاور گیا وہاں ایک دوست نے میری دعوت کی جس میں بعض غیر احمدی فوجی افسر بھی مدعو تھے۔میں نے دوران گفتگو میں ایک آیت پیش کی اس پر ایک بڑے فوجی افسر نے اعتراض کیا کہ یہ بات تو غلط ہے۔میں نے کہا پہلے آپ کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ یہ آیت قرآن میں ہے یا نہیں پھر یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ قرآن خدا کا کلام ہے یا نہیں اور اس آیت سے یہی معنے نکلتے ہیں جو میں نے کئے ہیں یا اور معنے نکلتے ہیں۔انہو ں نے کہا یہ آیت بھی قرآن میں ہے اور قرآن خدا تعالیٰ کا کلام بھی ہے اور معنے بھی اس کے وہی ہیں جو آپ نے کئے ہیں۔اس پر میں نے کہاتب یہ سوال نہیں کہ یہ آیت درست ہے یا نہیں بلکہ سوال یہ رہ جاتا ہے کہ خدازیادہ جانتا ہے یا آپ زیادہ جانتے ہیں۔اس بات کو سن کر وہ خاموش ہو گئے اور ایک دو منٹ تک اُن کا چہرہ سُرخ رہا۔اور خاموش بیٹھے رہے مگر چونکہ آدمی دیانتدار تھے اور سچی بات کہنا پسند کرتے تھے اس لئے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد انہوں نے سر اٹھایا۔اور کہنے لگے کہ معلوم تو ایسا ہی ہوتا ہے کہ میں خدا سے زیادہ جانتاہوں۔اس پر سب مجلس کے لوگ ہنس پڑے اور وہ اور بھی شرمندہ ہوئے۔غرض کئی لوگ خدا تعالیٰ کو بھی اپنا تابع قرار دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اُسے ہمارے ذاتی یا قومی یا سیاسی معاملات میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں۔فرماتا ہے جو شخص اپنے کبر میں یہاں تک ترقی کر جائے اور اپنے معبود کو وہی مقام دینا شروع کر دے جو ہواو ہوس کودیا جاتا ہے تو ایسے انسان کو کون فائدہ پہنچاسکتا ہے۔فائدہ تو صرف ایسے لوگ ہی اُٹھاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کو اپنا حاکم تصّور کر تے اور انانیت کو ہر پہلو سے کچل دیتے ہیں۔جب وہ ایسا کرتے ہیں تب اُن میں خدا تعالیٰ کا وہ نور ظاہر ہوتا ہے جو انہیں دوسرے لوگوں سے ممتاز کرد یتا ہے۔پھر فرماتا ہے تمہیں ظاہر میں تو یہی نظر آتا ہے کہ یہ لوگ بھی دین کی باتیں سنتے اور سمجھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں۔بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ جانور بھی اپنے محسن کی طرف رجوع کرتا ہے اور اپنے آقا اور مالک کا تابع فرمان