تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 115
اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَيْهِ ( اے رسول )کیا تو نے اس شخص کا حال بھی معلوم کر لیا ہے جس نے اپنی خواہشات ِ نفسانی کو اپنا معبود بنا لیا۔وَكِيْلًاۙ۰۰۴۴اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُوْنَ اَوْ کیا تُو اُس شخص پر نگران ہے (کہ تو اُسے جبرًا گمراہی سے روکے )کیا تُو سمجھتا ہے کہ اُن میں سے اکثر سُنتے یا سمجھتے يَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِيْلًاؒ۰۰۴۵ ہیں ؟ وہ تو فقط جانوروں کی طرح ہیں بلکہ رویہ کے لحاظ سے اُن سے بھی بدتر۔حلّ لُغَات۔اَلْھَوٰی أَلْھَوَی کے معنے ہیں اَلْعِشْقُ یَکُوْنُ فِیْ الْخَیْرِ وَالشَّرِّ۔کسی چیز کے حصول کی شدید تڑپ خواہ وہ چیز اچھی ہو یا بُری۔اِرَادَۃُ النَّفْسِ نفس کی خواہش۔أَلْمَھْوِیُّ مَحْمُوْدًا کَانَ اَوْ مَذْمُوْمًا ثُمَّ غَلَبَ عَلیٰ غَیْرِ الْمَحْمُوْدِ۔مطلوب و مقصودخواہ وہ اچھا ہو یا بُرا۔لیکن عام طور پر ھَوٰی کا لفظ ناپسندیدہ مقصد کے لئے بولا جاتا ہے۔( اقر ب) تفسیر۔اس آیت کے متعلق مفسرین لکھتے ہیں کہ اس میں قلب واقعہ ہوا ہے۔یعنی اِتَّخَذَ کا مفعول اوّل جو اِلٰھَہٗہے یہ دراصل مفعولِ ثانی ہے اور ھَوَاہُ جو مفعولِ ثانی ہے یہ مفعولِ اوّل ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ کیا تو نے اُس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشات نفسانی کو اپنا معبود بنا لیا ہے۔ان معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن کے نزدیک اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ کفار کی یہ حالت ہے کہ جو کچھ اُن کا نفس انہیں کہتا ہے اُس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ خدا اور اُس کے رسول کے کیا احکام ہیں وہ صرف اپنی نفسانی خواہشات کے غلام ہیں۔یعنی انہوں نے اپنی ہواو ہوس کو ہی اپنا معبود بنایا ہوا ہے۔لیکن میرے نزدیک یہاں قلب نہیں بلکہ اسی طرح کلام ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ اے رسول ! بتاتو سہی کہ جو شخص اپنے معبود کو اپنی خواہشات نفس کا درجہ دیتا ہو۔یعنی جس طرح خواہشات پر انسان حکومت کرتا ہے اسی طرح وہ خدا پر حکومت کرنا چاہے تو ایسے شخص کو کون فائدہ پہنچا سکتا ہے۔گویااِتَّخَذَ اِلٰھَہٗ ھَوٰہٗ کا یہ مفہوم ہے کہ انہوں نے اپنے معبود کو وہی مقام دیا ہے جو ھَوٰی کو دیا جاتا ہے۔اور اِلٰھَہٗ کو ھَوٰی انہوں نے اس طرح بنا لیا کہ جس طرح ھَوٰی پر انسان اقتدار رکھتا ہے اور جو بات اُس کی عقل میں آتی ہے یا اس کو مفید سمجھتا ہے اُسے قبول کر لیتا ہے اور جس بات کو وہ مضر سمجھتا ہے اُسے ردّ کر دیتا ہے۔اسی