تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 114
کے دعویٰ پر غور ہی نہیں کرتے۔اگر ان کے دلوں میں آئندہ زندگی کا کوئی خوف پایا جاتا تو یہ لوگ تکبر اور سرکشی میں نہ بڑھتے۔رِجَاء کے ایک معنے امید کے ہوتے ہیں لیکن اس کے ایک معنے ڈر کے بھی ہوتے ہیں ( اقرب) بلکہ بحرِ محیط والوں نے تو لکھا ہے کہ تہامہ کے علاقہ میں یہ لفظ صرف ڈر کے معنوں میں ہی استعمال ہوتا ہے ( تفسیر بحرِ محیط زیر آیت ولقد اتوا علی القریۃ التی امطرت) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیکیوں کے حصول میں اللہ تعالیٰ کی خشیت اور بعث بعد الموت کے عقیدے کا بھی بڑا دخل ہے اگر کسی کا دل اللہ تعالیٰ کے خوف سے خالی ہو جائے اور حیات بعد الموت کا ڈراُس کے دل سے نکل جائے تو اُس کے اندر لا مذہبیت اور سرکشی پیدا ہو جاتی ہے جو اس کے قدم کو ہدایت سے دُور لے جاتی ہے اور آخر اسے جہنم میں پہنچا کر رہتی ہے۔فرماتا ہے یہی بے باکی اور سرکشی ہے جس کی بنا ء پر یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے برابر ہنسی اور مذاق کرتے چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ اگر رسول بنا کر بھیجنا تھا تو کسی اور کو بھیجتا۔مگر پھر جب وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقبولیت اور آپ ؐ کی کشش اور جاذبیت کو دیکھتے تو کہہ اُٹھتے کہ یہ جھوٹاتو ہے مگر ہےبڑا چالاک۔کیونکہ قریب تھا کہ اگر ہم بھی صبرسے کام نہ لیتے یعنی اپنے عقائد پر مضبوطی سے نہ ڈٹے رہتے تو یہ ہمیں ہمارے معبودوں سے منحرف کر دیتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دلائل میں اتنا زورتھا کہ بڑ ے بڑے کفار بھی محسوس کرتے تھے کہ اُن کے پائوں کے نیچے سے زمین نکلی جارہی ہے۔اور اب بُتوں کی حقانیت ثابت کرنا اُن کے بس کا روگ نہیں رہا۔مگر پھر کِبر اُن کے راستہ میں حائل ہو جاتا اور وہ مخالفت پر کمر بستہ ہو جاتے اور لوگوں سے کہتے کہ یہ بڑا چالاک ہے اس کے پیچھے مت چلو۔مگر فرماتا ہے جب ان پر عذاب آئےگا تب ان کو پتہ لگے گا کہ ہمارا رسول سچ کہتا تھا یا لوگوں کو دھوکا دے رہا تھا۔چنانچہ جس طرح موسیٰ ؑ اور نوح ؑ اور ہود ؑ اور صالح ؑ اور لوط ؑ کی قومیں تباہ ہوئیں اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے ایک حصہ کو بھی مختلف جنگوں میں تباہ کر دیا گیا۔اور جو باقی بچے وہ اُسی وقت اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ ہوئے جب وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاکر خدا تعالیٰ کی پناہ میں آگئے اور انہوں نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہنا شروع کر دیا۔