تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 107
فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِيْرًاؕ۰۰۳۷وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ ہے۔پھر (جب وہ تبلیغ کر چکے) ہم نے اُن جھٹلانے والوں کو بالکل تباہ کرد یا۔اور قومِ نوح ؑ کو بھی جب انہوں اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰيَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا نے رسولوں کا انکار کیا ہم نے غرق کر دیااور ہم نے انہیں لوگوںکے لئے ایک نشان بنا دیا۔اور ہم نے لِلظّٰلِمِيْنَ عَذَابًا اَلِيْمًاۚۖ۰۰۳۸وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ ظالموںکے لئے دردناک عذاب تیار کر چھوڑا ہے۔اور عاد کو بھی اور ثمودکو بھی اور کنوئیں والے لوگوں کو بھی الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَيْنَ ذٰلِكَ كَثِيْرًا۰۰۳۹وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ اور اُن کے درمیان اور بہت سی قوموں کو بھی (ہم نے تباہ کر دیا )۔اور اُن میں سے ہر قوم کے لئے ہم نے الْاَمْثَالَ١ٞ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِيْرًا۰۰۴۰ حقیقت بیان کر دی اور( جب نہ سمجھے تو )سب کو ہلا ک کر دیا۔حلّ لُغَات۔دَمَّرْنَا ھُمْ۔دَمَّرْنَاھُمْ دَمَّرَ سے جمع متکلم کا صیغہ ہے اور دَمَّرَ عَلَیْھِمْ کے معنے ہیںاَھْلَکَھُمْ۔اُن کو ہلاک کردیا ( اقرب) پس دَمَّرْنَا ھُمْ کے معنے ہوںگے۔ہم نے اُن کو ہلاک کر دیا۔اَصْحَابَ الرَّسِّ۔اَصْحَابَ الرَّسِّ اَلرَّسُّ کے معنے ہیں اَلْبِئرُ الْقَدِیْمَۃُ۔پرانا کنواں ( اقرب ) مفردات میں ہے اَصْلُ الرَّسِّ اَلْأَثْرُ الْقَلِیْلُ الْمَوْجُوْدُ فِی الشَّیْءِ کسی چیز میں اگر کوئی بڑا نشان ہو اور پھر مٹتا مٹتا تھوڑا سارہ جائے تو اُس تھوڑے سے نشان کو رس کہتے ہیں ( مفردات ) أَصْحَابُ الرَّسِّ قِیْلَ ھُوَ وَاد ٍ بعض لوگوں کے نزدیک رسّ ایک وادی کا نام ہے ( مفردات ) پس اَصْحٰبُ الرَّسِّ کے معنے ہوں گے ( ۱) کنوئیں والے (۲) ایسی قوم جن کے نشان مٹتے مٹتے کچھ بقایا رہ گئے ہوں۔(۳) وادی والے تَبَّرْنَا تَبَّرْنَا تَبَّرَ سے جمع متکلم کا صیغہ ہے اور تَبَّرَہٗ کے معنے ہیں اَھْلَکَہٗ وَدَمَّرَہٗ۔اُس کو ہلاک و برباد کر دیا۔کُلَّ شَیْءٍ: کَسَرْتَہٗ وَفَتَتَّہٗ فَقَدْ تَبَّرْتَہٗ۔ہر وہ چیز جسے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے اس کے متعلق تَبَّرَ کا لفظ بولتے ہیں ( اقرب ) پس تَبَّرْنَا کے معنے ہوںگے۔ہم نے اُن کو کُلیۃً تباہ و برباد کر دیا۔