تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 103

بیان کیا جاتا تب تو یہ شُبہ پیدا بھی ہو سکتا تھا۔لیکن انہوں نے یہ اعتراض نہیں کیا۔اس لئے اس اعتراض کی وجہ سے یہ قیاس کرنا کہ پہلے چونکہ یکدم کلام نازل ہوتا تھا اس لئے قرآن کریم پر یہ اعتراض کیا گیا کہ کیوں یہ ایک ہی دفعہ نازل نہیں ہوا درست نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ اُن کے اعتراض کی بنا محض عقلی تھی۔وہ سمجھتے تھے کہ اگر خدا تعالیٰ نے کلام نازل کیا ہوتا تو یکدم کر دیتا کیونکہ وہ عالم الغیب ہے۔کلام کے آہستہ آہستہ نازل ہونے کے یہ معنے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ نئے اور بدلے ہوئے حالات کے مطابق خود ایک نیا کلام دنیا کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔اور چونکہ اُن کے اس اعتراض کی بناء محض عقلی تھی اس لئے اس سے یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ پہلے نبیوں پر اکٹھا کلام نازل ہو جاتا تھا۔لیکن بفرض محال اگر اسے تسلیم بھی کر لیا جائے کہ کفار مکہ ایسا کہتے تھے تو کیا اُن کے اس خیال کو ہم کوئی اہمیت دے سکتے ہیں۔کیا وہ علومِ آسمانی کے ماہر تھے یا مذہبی تاریخ کا ان کو کوئی علم تھا کہ ہم ان کے اس اعتراض کو تاریخِ مذہب کے لحاظ سے کوئی اہمیت دیں ؟ اگر انہوں نے ایسا کہا تب بھی تاریخی لحاظ سے یہ بالکل غلط بات تھی جسے کوئی باخبر انسان درست نہیں سمجھ سکتا۔میرے نزدیک اس غلطی کے پیدا ہونے کی ایک اور وجہ بھی ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت آتا ہے کہ انہیں طور پر الواح ملی تھیں ( اعراف ع ۱۷) مسلمان مفسرین چونکہ اسرائیلی کتب سے واقف نہ تھے انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ الواح اور تورات ایک ہی شے ہیں۔حالانکہ الواح صرف اُن احکام کا نام ہے جن کا خروج باب ۲۰ تا ۳۱ میں ذکر آتا ہے اور تورات اُن احکام کے علاوہ اور بھی بہت سے احکام پر مشتمل ہے۔اور پھر قرآن کریم نے یہ کہیں ذکر نہیں کیا کہ یہ احکام موسیٰ ؑ پر ایک ہی وقت میں نازل ہوئے تھے پس اوّل تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو طور پر مکمل تورات نہیں ملی اور پھر جو کچھ آپ پر نازل ہوا وہ بھی یکدم نازل نہیں ہوا بلکہ چالیس راتوں میں نازل ہوا۔لیکن الواحِ موسیٰ ؑ کے علاوہ دوسرے نبیوں کی وحی کی نسبت تو کوئی ضعیف روایت بھی ایسی نہیں جس سے معلوم ہو کہ پہلے نبیوں پر کلامِ الٰہی یکدم نازل ہو جاتا تھا اور اگر بالفرض کوئی ایسی روایت بھی ہوتی تو ہم اُسے خلافِ عقل کہہ کر رّد کر دیتے۔کیونکہ مکالمہ و مخاطبہ ٔ الٰہیہ انبیاء اور خدا تعالیٰ کے تعلق کو روشن کرتا ہے۔کیا ہم یہ خیال کر سکتے ہیں کہ کسی نبی پر ایک ہی رات میں سب کلام نازل کر کے خدا تعالیٰ اُس سے دائمی طور پر اپنے کلام کا سلسلہ منقطع کر سکتا ہے ؟ اور اگر ایسا ہو تو کیا وہ نبی زندہ رہ سکتا ہے میں تو سمجھتا ہوں اگر ایک دن کلام کر کے خدا تعالیٰ اپنے انبیاء سے کلام کرنا بالکل بند کر دیتا تو دشمن تو ان کو مارنے میں پھر بھی ناکام رہتے لیکن یہ خدائی فعل اُن کو مارنے میں ضرور کامیاب ہو جاتا۔حقیقت یہ ہے کہ ہر نبی کا کلام اُس کی زندگی کے مختلف حالات پر روشنی ڈالتا ہوا ایک لمبے عرصہ میں ختم ہوا کرتا ہے۔وہ کلام ایک طرف تو خدا تعالیٰ کی صفات کے تازہ ظہور پر روشنی