تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 101
ہے۔خدا تعالیٰ سے تعلق کیا ہوتا ہے۔بلکہ انہیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ خدا کیا ہوتا ہے۔اس لئے اُس وقت پہلے ایسے مسائل بیان کئے گئے جو بنیادی حیثیت رکھتے تھے۔مگر جب وہ مسائل زیر بحث آگئے اور پندرہ بیس سال تک وہ لوگ قرآن کریم کی آیات اور اُس کی تعلیم سنتے رہے تو اُس کے بعد اُن کے ہاں جو اولاد پیدا ہوئی اُس نے اپنے ماں باپ سے یہ باتیںسننی شروع کردیں اور بچپن سے ہی اُس کے کانوں میں یہ ڈالا جانے لگا کہ خدا کیا ہوتا ہے۔رسول کیا ہوتا ہے۔الہام کیا ہوتا ہے۔اسلام ہم سے کیا چاہتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نے کیوں مبعوث فرمایا۔پس جب وہ بڑے ہوئے تو اُن کی ذہنیت اور قسم کی تھی۔قرآن کریم جب نازل ہوا تو اُس وقت قرآن کریم کی بہت سی باتیں لوگو ںکے لئے بالکل نئی تھیں۔لیکن آئندہ اولادکے لئے وہ باتیں پُرانی ہو چکی تھیں۔مثلاً ایک مسلمان کے گھر میں جب بچہ پیدا ہوتا ہے توجاہل سے جاہل مسلمان بھی اپنے بچے کو یہ ضرور سکھاتے ہیں کہ اگر کوئی تم سے پوچھے کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے تو تم کہو۔خدا نے لیکن یہی سوال مکہ کے بڑے سے بڑے آدمی سے بھی کیا جاتا تو وہ حیرت میں پڑ جاتا کہ میں اس کا کیا جواب دوں کہ مجھے لات نے پیدا کیا ہے یا منات نے پیدا کیا ہے یا عزیٰ نے پیدا کیا ہے یا ھُبل نے پیدا کیا ہے۔آخر میں کیا کہوں کہ مجھے کس نے پیدا کیا ہے۔لیکن ایک مسلمان بچے کے لئے یہ بالکل معمولی بات ہے۔اسی طرح قضاء و قدر کا مسئلہ ہے۔اس کے تفصیلی مسائل اور چیز ہیں لیکن ایک مسلمان بچےکے لئے تقدیر کا سوال بالکل معمولی ہے اور وہ جانتا ہے کہ جو کچھ کرتا ہے خدا تعالیٰ کرتا ہے۔پس جہاں تک ایمان کا تعلق ہے یقیناً ہمارا بچہ اس سے زیادہ جانتا ہے جتنا ابو جہل ، عتبہ ، شیبہ اور وائل جانتے تھے کیونکہ وہ یہ بحث کرتے تھے کہ بتا ئو تقدیر کیا ہے اور ہمارا بچہ چاہے جانے یا نہ جانے کہ تقدیر کیا ہوتی ہے بڑی دلیری سے کہتا ہے کہ وہی ہوتا ہے جو خدا کی مرضی ہوتی ہے۔گویا تقدیر پر اس کا ایمان ہوتا ہے چاہے تفصیلات سے وہ نا واقف ہو لیکن ابو جہل اور اُس کے ساتھیوں کو تو تقدیر کا لفظ بھی عجیب لگتا تھا وہ تو یہی سمجھتے تھے کہ سارے کام ہمارے بُت کرتے ہیں یا ہم کرتے ہیں یا دیوی دیوتا اور جن بھوت اور پریت کام کرتے ہیں۔وہ سمجھتے تھے کہ قرعہ ڈال کر بکرا کسی دیوی کے نام چڑھا دیا تو سب کام ہو گئے۔لیکن ہمارا بچہ کہتا ہے کہ سب کام خدا تعالیٰ کرتا ہے۔وہ اپنی ماں کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے اماں ! مجھے فلاں چیز لے دو تو وہ کہتی ہے بیٹا ! اللہ دے گا تو لے دوںگی۔اور اس جواب سے اس کی تسلی ہو جاتی ہے کیونکہ اس کے نزدیک تقدیر ایک یقینی چیز ہے لیکن جب قرآن کریم نازل ہوا اُس وقت یہ ایک بڑا پیچیدہ مسئلہ تھا۔اور لوگ حیران ہوتے تھے کہ قرآن نے یہ کیا بات کہہ دی۔اسی طرح توحید کو لے لو۔توحید کے مسئلہ پر بڑا زور دیا گیا ہے۔لیکن جب ابتداء میں یہ تعلیم نازل ہوئی تو مکہ کے لوگ حیران ہو تے تھے کہ یہ توحید