تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 97

اجتہاد سے کہاں حاصل ہو سکتا ہے۔آپ کوتو جب بھی کوئی اہم واقعہ پیش آتا اُس کے متعلق آپ ؐ پر کلام الٰہی نازل ہو جاتا اور اس طرح آپ کو معلوم ہو جاتا کہ اس بارہ میں خدا تعالیٰ کا کیا منشاء ہے۔اگر اجتہاد سے ہی آپ ؐ آیات ِ قرآنیہ کو کسی واقعہ پر چسپاں کرتے تو اس سے آپ ؐ کو وہ لطف نہ آتا جو اس صورت میں آتا تھا۔(۲) قرآ ن کریم کا آہستہ آہستہ نزول تثبیت ِ فؤاد کا ا س طرح بھی موجب بنا کہ جو کتاب ساری دنیا کے عمل کے لئے آئی ہو اُسے محفوظ رکھنا بھی ضروری تھا۔اگر قرآن ایک ہی دفعہ سارے کا سارا نازل ہو جاتا تو اُسے وہی شخص حفظ کر سکتا جو اس کے لئے اپنی زندگی وقف کر دیتا۔لیکن آہستہ آہستہ اُترنے کے نتیجہ میں سینکڑوں لوگ اس کو یاد کرنے کے لئے تیار ہو گئے اور اپنے دوسرے کاروبار کے ساتھ اسے بھی حفظ کرتے گئے۔اس طرح رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دل اس یقین سے لبریز ہو گیا کہ یہ کتاب ضائع نہیں ہو گی بلکہ قیامت تک محفوظ رہے گی۔یہی وجہ تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت بہت کثرت سے ایسے لوگ پائے جاتے تھے۔جنہیں قرآن کریم حفظ تھا۔مگر اب اُس نسبت کے لحاظ سے کم ہوتے ہیں اس لئے کہ تھوڑا تھوڑا نازل ہونے کی وجہ سے بہت لوگ اُسے ساتھ ساتھ یاد کرتے جاتے تھے۔(۳) تیسری حکمت تھوڑا تھوڑا نازل ہونے میں یہ ہے کہ ایک ہی دفعہ سارا قرآن نازل ہونے کی وجہ سے وہ لوگوں کے قلوب میں اچھی طرح راسخ نہیں ہو سکتا تھا۔اب ایک ہندو جب مسلمان ہوتا ہے تو اُسے اسلامی احکام پر عمل کرنے والے مسلمان نظر آتے ہیں اس لئے وہ گھبراتا نہیں اور ان احکام پر عمل کرنا بوجھ نہیں سمجھتا لیکن اگر کسی کو کوئی کتاب لکھ کر دے دی جائے کہ اس پر عمل کرو اور کوئی نمونہ اس کے سامنے موجود نہ ہو تو وہ سو سال میں بھی اس پرعمل کرنا نہیں سیکھ سکتا پس قرآن کریم کی تعلیم کو قلوب میں راسخ کرنےکے لئے ضروری تھا کہ اُسے آہستہ آہستہ نازل کیا جا تا۔ایک حکم پر جب لوگ عمل کرنا سیکھ جاتے تو دوسرا نازل ہوتا دوسرے حکم پر عمل کرنا سیکھ جاتے تو تیسرا نازل ہوتااور اس طرح سارے احکام پر عمل کرایا جاتا۔(۴) اگر ایک ہی وقت میں سارا قرآن نازل ہوتا تو اس کی ترتیب وہی رکھنی پڑتی جواب ہے۔لیکن یہ ترتیب اس وقت رکھی جانی خطرناک ہوتی جس طرح ہمارے لئے اب وہ ترتیب خطرناک ہے جس کے مطابق قرآن نازل ہوا تھا۔اگر نمازوں او ر روزوں وغیرہ کے احکام شروع میں ہوتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ثابت نہ ہو چکی ہوتی تو وہ سمجھ میں ہی نہ آتے اس کے لئے پہلے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اُس کی توحید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ثابت کرنے کی ضرورت تھی اور یہ بتانا ضروری تھا کہ خدا تعالیٰ موجود ہے اور وہ ایک ہی ہے