تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 6
توفرشتہ کیوں نہ اُتارا۔یا پھر اس کے ساتھ خزانہ کیوں نہ اُترا۔یا اللہ تعالیٰ اُسے ایسے باغات دیتا جن میں سے یہ پھل کھاتا۔اور بعض کہتے ہیں کہ ایک جھوٹے انسان کے پیچھے کیوں چل رہے ہو۔ذرا دیکھو کس طرح بے جوڑ اعتراض کرتے جاتے ہیں اور کسی ایک امر پر قائم نہیں رہتے۔( آیت ۸تا ۱۰ ) خدا تعالیٰ تو اس سے بہتر باغات تجھے دے سکتا ہے اور دےگا۔مگر یہ لوگ اس گھڑی کا انتظار نہیں کرتے بلکہ اس کے منکر ہیں۔لیکن جب وہ وقت آئےگا تو یہ پریشان ہو جائیں گے۔( آیت ۱۱ تا ۱۵) یہ جیسا باغ مانگتے ہیں کیا ان باغوں سے اچھا ہے جو مسلمانوں کو ملنے والا ہے۔( آیت ۱۶،۱۷) جب مابعدا لموت ان کےمعبودوں سے سوال کیا جائےگا تو وہ منکر ہو جائیں گے۔( آیت ۱۸ تا ۲۰) ان کے اعتراض کیا وزن رکھتے ہیں۔آخر ہر ایک قوم نبیوں کی مدعی ہے۔کیا وہ انسان نہ تھے۔اور انسانی ضروریات ان کے ساتھ نہ تھیں۔ان کوبس یہ فخر ہے کہ عوام ان کے مؤید ہیں۔اور یہ ان کو دھوکا دے سکتے ہیں۔ورنہ ان کی باتیں محض بے سروپا ہیں۔( آیت ۲۱) پھر کچھ لوگ ان میں سے کہتے ہیں کہ خود ہم پر فرشتے کیوں نہ اُترے یا خدا ہم سے کیوں نہ بولا۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنی شان بہت بڑی سمجھتے ہیں حالانکہ ان کو فرشتے نظر آئیں گے تو ان کے اعمال کے مطابق عذاب ہی کے دن نظر آئیں گے لیکن مومن فرشتوں کو خوشی سے دیکھیں گے۔( آیت ۲۲ تا ۲۵) فرماتا ہے ایک دن فرشتے ضرور اُتریں گے مگر وہ فیصلہ کا دن ہو گا۔اور رسول لوگوں پر گواہی دے گا کہ قانونِ قدرت اور الٰہی تعلیم کا انہوں نے انکار کیا۔( آیت ۲۶ تا۳۱) مگر یہ کوئی نئی بات نہیں سب نبیوں سے ایسا ہی ہوا۔( آیت ۳۲) پھر بعض کہتے ہیں کہ یکدم قرآن کیوں نہ اُترا۔یہ اعتراض جتنے چاہیں کریں ہمارے پاس ان کے جواب موجود ہیں بری بات یہ نہیں کہ اعتراض ہوں۔بُری بات تو یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے سامنے شرمندہ ہو۔( آیت ۳۳ تا ۳۵) تجھ سے پہلے کئی نبی آئے اور اُن کے دشمن ہلاک ہوئے۔( آیت ۳۶ تا ۴۱) تجھ سے بھی یہ لوگ ہنسی کرتے ہیں۔مگر ایسا ہونا ہی چاہیے کیونکہ اُن کے دل انسانیت سے خالی ہو چکے ہیں۔( آیت ۴۲، ۴۵) کاش یہ دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ ایک قوم کو ترقی دیتا ہے۔پھر اُس پر زوال آجاتا ہے اور رات کے بعد دن کی سی