تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 7
کیفیت بھی بعض قوموں پر آتی ہے پس کیوں نہیں سمجھتے کہ ان کے زوال اور مسلمانوں کی ترقی کا زمانہ آگیا ہے۔( آیت ۴۶ تا ۵۰) قرآن ان کے سامنے صرف نصیحت کی بات پیش کرتا ہے کچھ ان سے مانگتا تو نہیں۔پھر انکار پر اصرار کیوں۔( آیت ۵۱) ان کو یہ صدمہ ہے کہ عرب میں کیوں نبی ہوا ؟ آخر نبی کہاں آتا ؟ کہ جسے سب قومیں مان لیتیں۔کیا ہر قوم اور ہر ملک میں الگ الگ نبی ایک وقت میں آجاتے۔مگر اس سے تو اختلاف بڑھتا۔پس تو ان کی باتوں کو نہ دیکھ۔قرآن کی تبلیغ کئے جا۔( آیت ۵۲،۵۳) کیا وہ دیکھتے نہیں کہ خدا نے دو دریا چلا رکھے ہیں۔ایک میٹھا اور ایک کڑوا۔پھر وہ آپس میں ملتے نہیں۔اسی طرح یہ دو تعلیمیں متوازی چلتی چلی جائینگی۔اور لوگ میٹھے اور کڑوے کا فرق محسوس کرتے رہیں گے۔( آیت ۵۴) کیا دیکھتے نہیں کہ انسان کی جسمانی پیدائش بھی پانی سے ہے۔اسی طرح رُوحانی پیدائش بھی وحی کے پانی کی محتاج ہے۔( آیت ۵۵) یہ تو شرک کے عادی ہیں اور تیرا کام ان کو سمجھانا اور مفت تبلیغ کرنا اور صرف خدا پر نظر رکھنا ہے۔(آیت ۵۶ تا ۶۰) جب ان سے کہا جاتا ہے کہ واحد خدا کی عبادت کرو جس کی وحدت پر کائنات گواہ ہے تو یہ انکار کرتے ہیں۔(آیت ۶۱) حالانکہ دیکھتے نہیں کہ ایک جسمانی نظام ہے اور اس سے روشنی اور حیات ملتی ہے۔اسی طرح نیکی اور بدی بھی آگے پیچھے آتی ہیں اور مومن دنیا میں ہمیشہ امن قائم کرتے آئے ہیں اور شرارتوں کا جواب دُعا سے دیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے عبادت گذار رہتے ہیں اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اس سے دعائیں کرتے ہیں اور دنیا کی اصلاح کے لئے مال خرچ کرتے ہیں۔لیکن نمائش نہیں کرتے۔وہ شرک نہیں کرتے۔قتل نہیں کرتے۔زنا نہیں کرتے اور جو ایسا کرےگا اپنے انجام کو دیکھے گا۔ہاں اسلام کا خدا تو بہ قبول کرتا ہے اور اس کا ثبوت نیکیوں کی توفیق ملنے سے ملتا ہے۔( آیت ۶۲ تا ۷۲) اور مومن وہ ہوتے ہیں جو جھوٹ نہیں بولتے اور فضول باتوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور خدا تعالیٰ کی باتوں کو سن کر مرعوب ہوتے ہیں اور اپنے بیوی بچوں کی اصلاح کے لئے دعائیں کرتے ہیں اور صرف لیڈری نہیں چاہتے بلکہ نیک لوگوں کی لیڈری چاہتے ہیں۔ان کو خدائی نعمتیں ملیں گی۔جو دائمی ہوںگی۔( آیت ۷۳ تا ۷۷)