تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 92
نیادل اور نئی روح پیدا کرو۔‘‘ (آیت ۳۰ ،۳۱ ) (انسائیکلو پیڈیا ببلیکا ) حزقیل کے متعلق یہودی لٹریچر میںلکھا ہے کہ وہ جوشوعا کی اولاد میں سے تھا۔او ربعض کہتے ہیں کہ وہ یرمیاہ کابیٹا تھا۔حزقیل کے متعلق لکھاہے کہ اس نے یسعیاہ سے زیادہ تفصیل کے ساتھ خدا کے تخت گاہ کاحال بیان کیا لیکن یہودی علماء کہتے ہیں کہ اس کے یہ معنے نہیںکہ و ہ یسعیاہ سے بڑا تھا۔اس کے صرف یہ معنے ہیں کہ اس نے خدا کے تخت کو صرف ایک دفعہ دیکھا اس لئے زیادہ تفصیل سے یاد رکھا۔یسعیاہ بار بار دیکھتا تھا اس لئے اس کی نگاہ میں اس کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی تھی۔علماء یہود کے نزدیک حزقیل مردے زندہ کیا کرتے تھے اس کے متعلق بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ رویا تھی جس کو یہ شکل دے دی گئی ہے۔(اس بارہ میں بھی ا نہیںمسیح سے مشابہت تھی ) (میمونیڈ یاکتاب رانیبو کین باب ۲آیت ۴۶۔جیوش انسائیکلوپیڈیا صفحہ ۳۱۵ کالم ۲ ) قرآن کریم میںبھی اس واقعہ کا ذکر ہے اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ رویاہی تھی (سورہ بقرہ رکوع۳آیت ۲۶۰) حزقیل جلا وطنی میں بابل کے پاس ہی فوت ہوئے اور ایک لمبے عرصہ تک ان کی قبر کی زیارت یہودی اور مسلمان کرتے رہے۔چنانچہ ڈیر نمرود کے پاس کفل جگہ پر یہ قبر بتائی جاتی ہے (اس جگہ کانام کفل ہونا صاف بتاتاہے کہ عربوںکی زبان میںحزقیل کانام ہی کفل تھا ) (جیوش انسائیکلو پیڈیا) حزقیل نبی بائیبل کے مؤرخوں کے نزدیک ساتویں صدی قبل مسیح ؑکے آخر میںپیدا ہوئے اور قریباً ۵۷۰سال قبل مسیح ؑ کے آخر تک زندہ رہے (انسائیکلوپیڈیا ببلیکا زیر لفظ EZEKEIL)حزقیل نبی کادعویٰ تھا کہ خدا تعالیٰ کی رؤیت ان کو حاصل ہوئی حزقیل زیادہ تر اپنی قوم کی تباہی کی خبریں دیتے ہیں چنانچہ اپنی کتاب کے باب ۲ میں انہوں نے ایک رویا بیان کی ہے جس میں ایک کتاب انہیں دکھائی گئی اور انہیں کہا گیا کہ تم اس کو کھالو اس کتاب پر لکھا تھا نوحہ ماتم او ر واویلا اس میں اشارہ کیاگیا تھا کہ ان کی ساری زندگی ان الفاظ کے ماتحت گذرے گی۔حزقیل کے زمانہ میں معلوم ہوتا ہے یہودیوں میں تہذیب بہت بڑھ گئی تھی اور وہ ایک مضبوط قوم بن گئے تھے گو سیاسی طور پر وہ کمزور ہوگئے تھے ان کی جتھہ بندی کی وجہ سے کوئی شخص ان کو حق نہیں سنا سکتا تھا۔جو حق بات کہتا تھا سارے اس کے پیچھے پڑ جاتے تھے اسی وجہ سے باب ۳ میں حزقیل سے کہا گیا کہ جو کچھ میںتجھے کہوں وہ لوگوں کو پہنچا۔ورنہ تو ذمہ دار ہوگا یہ وہی تعلیم ہے جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہے کہ يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ(المائدۃ:۶۸) یعنی اے ہمارے رسول لوگوں کو وہ ساری تعلیم پہنچا جو میں نے تجھ پر نازل کی ہے اور اگر تو ساری تعلیم نہیںپہنچا ئےگا تو یہ سمجھا جائےگا کہ تو نے کوئی حصہ بھی نہیں