تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 89

حزقیل سے حزکفل اور اس سے ذوالکفل ہوجانا کوئی بعید بات نہیں۔یہ بھی ہو سکتاہے کہ حزقیل کا عربی میںترجمہ کرکے اسے ذوالکفل کہہ دیا گیا ہو۔کیونکہ حزقیل کے معنے ہیں ’’جسے خدا کی طرف سے طاقت ملی ہو‘‘ اور کفل کے معنے بھی حصہ کے ہیں۔پس ذوالکفل کے معنے ہیں جس کو بڑا حصہ ملا ہو۔پس ہو سکتاہے کہ عربوں نے حزقیل کانام سن کر اور عبرانی میں اس کے معنے سن کر اس کا ترجمہ ذوالکفل کر لیا ہو۔یسعیاہ ؑ کے ساتھ اس کے نام کا آنا مزید ثبوت ہے کہ یہ نبی حزقیل ہی ہیں۔حزقیل ؑاور یسعیاہ ؑکاخاص جوڑتھاجو پیشگوئیاں یسعیاہ ؑنے کی تھیں وہ حزقیل کے زمانہ میں پوری ہوئی تھیں اور یہودی مصنف یسعیاہ ؑاور حزقیل ؑکاباہم مقابلہ بھی کرتے ہیں (یسعیاہ باب ۲ آیت ۱،حزقیل باب ۴۰ آیت ۲۰ تا ۴۶ ،جیوش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ EZEKEIL)۔بائیبل کے لٹریچر میں حزقیل کو چار بڑے نبیوں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔(جیوش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ EZEKEIL)۔حزقیل ایک مشہور مذہبی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ان کی ابتدائی عمر یروشلم کی عبادت گاہ میں صرف ہوئی تھی جہاں انہوں نے دینی تعلیم بھی حاصل کی۔حزقیل ان لوگوںمیںسے تھے جن کو بابل کابادشاہ قید کرکے یروشلم سے لے گیا تھا۔ان کی کتاب میںبرابر ان کی قید کے زمانہ کا ذکر آتاہے گو وہ علماء کے لیڈر نہیں تھے مگر بوجہ ان کے بڑھتے ہوئے رسوخ کے بادشاہ نے ان کو اس قابل سمجھا کہ ان کو گرفتار کرکے یروشلم سے لے جائے۔غالباً ان کی پیدائش ۶۲۲قبل مسیح ؑ کی تھی اور ۵۹۲قبل مسیح میں ان کا الہامی زمانہ شروع ہوتا ہے جب وہ قریباً تیس سال کے تھے اندازاً بائیس سال تک انہوں نے نبوت کی اور ۵۷۰ ؁قبل مسیح میں۵۲ سال کی عمر میں انہوں نے وفات پائی۔حزقیل نے شادی بھی کی یروشلم کی دوبارہ آبادی کی انہوں نے پیشگوئی بھی کی اور اس کا ذکر قرآن کریم میںسورئہ بقرہ رکوع۳۵ میں آتا ہے۔حزقیل کو اس لحاظ سے خاص اہمیت حاصل ہے کہ ان کے زمانہ کے بعدیہود نے قریباًقریباًظاہری بت برستی چھوڑ دی جو اس سے پہلے زمانوں میںبار بار ان میں عود کر آتی تھی۔بعض ائمہ بائیبل کا خیا ل ہے کہ حزقیل اسرائیلی نبیوں میںسے آخری نبی تھا۔اس کے بعد جو لوگ پیدا ہوئے