تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 86

جو ہریش چندر کے متعلق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ بائیبل میں لکھاہے کہ وہ اتنا مالدار تھا کہ اہل مشرق میں ویسا کوئی مالدار نہ تھا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ قصہ مشرق یعنی ہندوستان سے آیا تھا اوربائیبل نے اس قصہ کو اپنے اندر درج کرلیا ہم نے اوپر مفسرین کی روایتیں بھی دے دی ہیں اوربائیبل کی بھی ان دونوں کو ملا کر پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مفسرین نے یہودیوں سے یہ روایتیں نقل کی ہیں کیونکہ بہت سی باتوں میںیہ روایتیںبائیبل کے قصے سے ملتی ہیں اور بعض میں مختلف بھی ہیں یہ اتفاق اور اختلاف بتاتا ہے کہ ذریعہ معلومات تو ایک ہی ہے مگر پور اقابل اعتبار نہیں قرآن کریم جو ان سب لغویات سے پاک ہے اس نے اس قصہ کی فضولیا ت کو حذف کردیا ہے اور جو واقعات اس نے بیان کئے ہیں ان سے صرف اتنی بات معلوم ہوتی ہے کہ ایوب بڑامالدار تھا او ر اس کابڑا خاندان تھا وہ ایک مشرک ملک میںرہتا تھا جس کابادشاہ ظالم تھا۔ظالم ملک کے متعلق یہ آیت شہادت دیتی ہے کہ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّيْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍ (ص:۴۲) یعنی ایوب ؑ نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو تھکان اور تکلیف پہنچائی ہے شیطان کے معنے عربی زبان میں سرکش کے ہوتے ہیں(اقرب) پس اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ایک سرکش بادشاہ مجھے تکلیفیں دیتا ہے اور تھکان اور عذاب پہنچارہا ہے یعنی اس کے ظلم کی وجہ سے مجھے ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ جانا پڑتا ہے اور میرے مال اور خاندان کو وہ نقصان پہنچاتاہے اور اس طرح مجھے دکھ دیتا ہے۔یہ جو ہم نے لکھا ہے کہ وہ بادشاہ کے ظلم سے مجبور تھے کہ ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ جائیں اس کاثبوت یہ آیت ہے کہ اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ(ص:۴۳) اور یہ آیت بھی کہ خُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ (ص:۴۵) یعنی اپنی سواری کو ایڑی مار اور ساتھ ہی سواری کو درخت کی ایک ٹہنی سے بھی مارتا جا تاکہ تیرا سفر جلدی طے ہو جب تو ایسا کرےگا تو سامنے تجھے ایک چشمہ نظر آئےگا جس میں نہانے کا بھی سامان موجود ہوگااور پیاس بجھانے کا بھی اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضر ت ایوبؑ کسی پہاڑی علاقہ میں رہتے تھے جن لوگوں نے کشمیر دیکھا ہے وہ اس کو خوب سمجھ سکتے ہیں کشمیر کے لوگ جب گھوڑے پر سوار ہوکر پہاڑی سے اترتے ہیں تو بے تحاشا دونوں ایڑیاں گھوڑوں کو مارتے جاتے ہیں اور ایک ہاتھ سے درخت کی شاخ بھی مارتے جاتے ہیں تاکہ سفر جلدی طے ہو اور ٹھنڈے چشمے بھی عام طور پر پہاڑوں پر پائے جاتے ہیں۔پس قرآنی روایت کے مطابق اتنا ہی پتہ لگتا ہے کہ ایک ظالم بادشاہ کی تعذیب سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت ایوبؑ نے اپنے ملک سے ہجرت کی جو علاقہ پہاڑی بھی تھا اور چشموں والا بھی تھا اور ایڑیاں انہوںنے گھوڑے کو ماری تھیں نہ کہ زمین پر مار کر چشمہ پھوڑا تھا اور درخت کی مو ٹی شاخ جس کے آگے کئی چھوٹی چھوٹی شاخیں لگی ہوئی تھیں سواری کو اس کے دوڑانے کے لئے مار رہے تھے۔نہ یہ کہ