تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 84

محققین اس امر پر متفق ہیںکہ ایوبؑ کی کتاب میں جو زبان استعمال ہوئی ہے وہ نویں سے چوتھی صدی قبل مسیح کی زبان ہے اور اس زمانہ میںیہودی بخت النصر کے ہاتھوں قید ہو کر ہند کے قریب کے علاقوں میں پھیلائے جاچکے تھے ادھر ہندوؤں میںایک واقعہ ہریش چندر کے نام سے مشہور ہے جو اس واقعہ سے بہت کچھ ملتاجلتاہے پس کچھ تعجب نہیںکہ یہ وہیں سے لیاگیا ہو اس کاثبوت خود ایوب کی کتاب سے بھی ملتا ہے کیونکہ اس میں لکھا ہے کہ شیطان خداکے دربارمیں حاضر ہوا۔اب یہ خیال کہ شیطان خد اکے دربار میںجاتاہے یہود اور ان کے اردگرد کی اقوام کانہیں بلکہ خالص ہندوستانی خیال ہے جو بری اور اچھی روحوں کو خدا تعالیٰ کے دربار میںحاضر کرتے ہیں اوران کی آپس میںخوب باتیں ہوتی رہتی ہیں۔بہرحال پرانے عہد نامہ میںکتاب ایوب باب ۱ میںلکھا ہے کہ عُوض کی سرزمین میں ایک شخص ایوب نامی تھا وہ شخص نہایت نیک اور متقی تھا اس کے سات بیٹے اور تین بیٹیاں تھیںاس کے پاس ۷۰۰۰بھیڑیں، ۳۰۰۰ اونٹ، ۵۰۰ جوڑے بیل اور ۵۰۰ گدھیاں تھیںاس کے نوکرچاکر بہت تھے اور اس کے برابر مشرق میں کوئی مالدار نہ تھا اس کے بیٹے بڑے مالدار تھے۔ایوب کے بیٹے جب جوان ہوئے توان کی طرف سے قربانیاں کیںتاکہ اگر ان کاکوئی گناہ ہو تو معاف ہوجائے۔ایک د ن خداکے حضور میںفرشتے پیش ہوئے اور ان میں شیطان بھی شامل ہوگیا تب اللہ تعالیٰ نے شیطان سے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو او رکیامیرے بندے ایوب کو دیکھاہے اس نے کہا ادھر ادھر سے پھر کے آیا ہوں اور ایوب کومیں نے دیکھا۔کہ خداترسی کرتاہے مگر مفت میں نہیں بلکہ اس لئے کہ تونے اس پر بڑی نعمتیں نازل کی ہیں تو ذرااس کی نعمتیں لے لے پھردیکھ کہ وہ تجھ پر ملامت کرتا ہے یا نہیں۔اس پر خدا تعالیٰ نے کہاکہ اس کے مال کو جس طرح چاہے تباہ کردے مگر اس کے جسم پر ہاتھ نہ بڑھائیو۔اس کے بعد ایسا ہوا کہ دشمنوںنے اس کے نوکروں پر حملہ کردیا اور ان کو قتل کردیا۔اسی طرح آسمان سے بجلی گری اور اس نے ان کے نوکر چاکر اور مال و اسباب کو جلادیا پھرکسی نے اطلاع دی کہ ان کے بیٹوںکو غلام بنا کر دشمن لے گئے ہیں اس پرایوب نے اپنا پیراہن چاک کیا اور رونے لگااور سجدہ کیا اور کہا کہ میںجس طرح ماں کے پیٹ سے ننگا آیا اسی طرح ننگا ہی جائوںگا۔مگر ان سب مصائب کے باوجود ایوب نے خدا پر الزام نہ لگایا(باب ۲) اس کے بعد پھر ایک دن فرشتوں میںمل کر شیطان خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو ااو ر خدا تعالیٰ کے پوچھنے پر کہ تونے ایوب کا حال دیکھاکہ وہ کیساشکر گذار ہے شیطان نے کہا انسان اپنے جسم کے لئے بھی سب مال قربان کردیتاہے۔تو اس کے جسم اور ہڈی کو نقصان پہنچاپھردیکھ اس کا شکر کہاں باقی رہتا ہے۔خدا تعالیٰ نے شیطان کو کہاکہ بے شک اس کی جسمانی