تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 80
یہ امر بھی یاد رکھناچاہیے کہ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖۤ میں امر کی ضمیر خدا تعالیٰ کی طرف بھی جاسکتی ہے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف بھی اگر سلیمان علیہ السلام اس جگہ مراد ہوں تو اس سے ان کاحکم مراد نہیںہوگا بلکہ اس سے ان کاکام مراد ہوگا۔وَ مِنَ الشَّيٰطِيْنِ مَنْ يَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ يَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ اور کچھ سرکش لوگ ایسے تھے جو اس کے لئے سمندروںمیں غوطے لگاتے تھے اور اس کے سوا بھی اور کام ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِيْنَۙ۰۰۸۳ کرتے تھے۔اور ہم ان کے لئے نگرانی کاکام کرتے تھے۔حلّ لُغَات۔اَلشَّیٰطِیْن۔شَطَنَ البِئْر کے معنے ہوتے ہیں کنواں بہت گہرا ہوگیا۔اور شَیْطٰن کے معنے ہیں کُلُّ عَاتٍ مُتَمَرَّدٍ سرکش انسان (اقرب) پس شیاطین سے مراد دور دور تک غوطہ لگانے والے لوگ ہیںجو ان کی ماتحت قوموں میںسے تھے اور کافر تھے۔تفسیر۔فرماتا ہے کئی قسم کے سرکش لوگ ہم نے سلیمان علیہ السلام کے ماتحت کردیئے تھے جو اس کے لئے غوطہ لگاتے تھے او رکئی قسم کے کام کرتے تھے۔اور ہم اپنی تدبیر سے ان کی حفاظت کرتے رہتے تھے۔ان آیات میںاللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے حضرت دائودعلیہ السلام کا ذکر کیا ہے جو اپنے زمانہ میںبڑی زبردست حکومت کرتے رہے تھے اور پھرحضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر کیا قرآنی زمانہ میں حقیقی دائود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے جنہوںنے اپنے دشمنوں سے عملاً جنگیں کیں اورجنگ کے سامان تیا ر کئے اور حضرت سلیمانؑ کے مشابہ اس امت میںبنو عباسؓ اور بنو امیہ کی حکومتیں تھیں جن کے عہد میں دولت و ثروت کی یہ کیفیت تھی کہ بنو عباس کے ایک خلیفہ مامون الرشید کے متعلق تاریخ میںلکھاہے کہ مامون نے ایک دفعہ مصر کے علاقہ کادورہ کیااس کاطریق تھا کہ وہ ہرگائوں میںایک رات دن ٹھہرتاتھا۔جب وہ طاء النمل نامی ایک گائوں میں پہنچا تو وہاں اس نے قیام کرنا مناسب نہ سمجھا اور آگے چل پڑا۔اس پر اس گائوں کی ایک معزز بڑھیا خاتون مامون الرشید کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے درخواست کی کہ آپ ہمارے گائوں میںبھی قیام فرمائیں۔مامون الرشید نے اس کی درخواست کو منظور کر لیا اور وہاں قیام کیااس خاتون نے اپنی حیثیت کے مطابق مامون اور اس کے تمام ہمراہیوں کی