تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 79
ہے یہ نور کچھ گھروں میںہے۔جن گھروں کے متعلق ہمارا حکم ہے کہ انہیں اونچا کردیا جائے۔وَيُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ ان گھروں میںصبح وشام تسبیحیں ہوتی ہیں۔مگر فرمایا رِجَالٌ ہماری مراد آدمیوں کو اونچاکرنا ہے نہ کہ گھروں کو۔گویاپرندے کی جو دو خاصیتیںتھیں ان دونوں کا مومنوں کے اندر پایاجانا بھی بیان کردیا۔اور بتادیاکہ عمل صالح مومن کو اڑاکر اللہ تعالیٰ کی طرف لے جاتا ہے۔حدیثوں میں بھی آتاہے کہ جب کوئی مومن مرتاہے تو اس کی روح کو فرشتے آسمانوں کی طرف لے جاتے ہیں اورکہتے ہیں دروازے کھول دو۔ایک مومن کی روح آتی ہے۔مگر جب کافر مرتاہے تواس کی روح اٹھائی نہیں جاتی بلکہ نیچے پھینکی جاتی ہے(ابن ماجہ کتاب الزھد باب ذکر الموت والاستعداد لہ)۔غرض طیر سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی روحیں ہیںجو وسعت حوصلہ اپنے اندر رکھتی ہیں اور دین کے لئے ہر قسم کی بلندیوں پر چڑھنے کے لئے تیار ہتی ہیں وہ مشکلات کی پرواہ نہیں کرتیں اور نہ مصائب سے گھبراتی ہیں بلکہ ہرقسم کی قربانیوں کے لئے آمادہ و تیار رہتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو کرایک دفعہ ایک صحابی نے کہا۔یا رسول اللہ! آپ حکم دیجیئے ہم اپنے گھوڑے سمندر میںڈالنے کے لئے تیار ہیںاور ذرابھی نہیں پوچھیں گے کہ حضور نے یہ حکم کیوں دیا۔گویا مومن کو پرندہ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے ان قابلیتوں کا ذکر کیا ہے۔جو مومنوں کے اندر پائی جاتی ہیںاور بتایا ہے کہ وہ سفلی زندگی کی بجائے علوی زندگی اختیار کرتا اور نیچے جھکنے کی بجائے اوپر کی طرف اڑتاہے۔یہی حکمت ہے جس کے ماتحت حضرت دائودعلیہ السلام پر ایمان لانے والوں کا نام طیر رکھا گیا اور بتایا گیا کہ وہ آسمان روحانی کی طرف پرواز کرنے والے لوگ تھے اور ان کے اندر خاص روحانی استعدادیںپائی جاتی تھیں۔سفلی زندگی سے انہیں کوئی دور کا بھی واسطہ نہیںتھا۔پھرفرماتا ہے۔وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ۔وَ لِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ عَاصِفَةً تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عٰلِمِيْنَ اور ہم نے دائود کو زرہیں بنانےکافن بھی سکھایا تھا تاکہ وہ اپنی قوم کی جنگوں میںحفاظت کرے۔اسی طر ح ہم نے سلیمان ؑپر یہ فضل کیاکہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہوائیںاس کے بیڑے کو مختلف جہات میں لے جاتی تھیں جن میںشام اور فلسطین بھی شامل تھے۔انسائیکلو پیڈیا ببلیکا سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام خلیج عقبہ سے مشرقی عرب کے اوپر کی طرف اپنا بیڑہ بھیجتے تھے جو سونا وغیرہ لاتاتھااور اس سے بہت فائدہ اٹھا تے تھے۔