تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 73
ہے تو حضرت دائود ؑ کے لئے اگر یہی الفاظ آجائیں تو اس کے نئے معنے بن جاتے ہیں۔دیکھ لو۔وہ دونوں باتیں جو حضرت دائود ؑ کے متعلق کہی گئی تھیں ہمارے لئے بھی موجود ہیں ہمارے لئے بھی خدا کہتاہے کہ میں نے ہرچیز مسخر کردی اور وہ یہ بھی کہتاہے کہ ہمارے زمانہ میںبھی ہر چیز تسبیح کررہی ہے۔بلکہ حضر ت دائود ؑ کے لئے تو صرف یہ کہاگیا ہے کہ پہاڑ اور پرندے تسبیح کرتے تھے مگر ہمارے لئے یہ کہا گیا ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب تسبیح کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تسبیح سے مراد یہ ہے کہ ہرچیز یہ ثابت کررہی ہےکہ خدا بے عیب ہے۔چونکہ اسلام نے دنیا بھر سے عیب دور کرنے تھے اس لئے مسلمانوں کو یہ بتایا گیا کہ زمین و آسمان میںجو کچھ ہے وہ تسبیح کررہا ہے لیکن حضرت دائود نے چونکہ صرف جبال یعنی اہل جبال سے عیب دور کرنے تھے اور وہ ساری دنیاکی طرف مبعوث نہیںہوئے تھے بلکہ ایک محدود مقام کی طرف تھے اس لئے حضرت دائود کے لئے صرف جبال نے تسبیح کی لیکن محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ سارے جہان کی طرف تھے اس لئے آپ نے فرمایا جُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا (بخاری کتاب الصلوٰۃ باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم جعلت لی الارض مسجدا و طھورا) زمین کاایک ٹکڑا بھی ایسا نہیں جو تسبیح نہیں کررہا۔اس لئے ہم جہاں جائیں گے وہ مسجد بن جائےگی پس یسبح للہ والے مضمون کو دائود ؑ کے مضمون میں محدود کرکے صرف پہاڑوں تک رکھا گیا۔اس لئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلممَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ کے لئے تھے اور حضر دائود ؑ صرف چند اہل جبال کے لئے۔باقی رہا اَوِّبِیْ مَعَہٗ کے الفاظ سے یہ استدلال کہ پہاڑ حضرت دائود ؑکے ساتھ ان کی تسبیح میں شامل ہو جاتے تھے اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل دنیا کاذرہ ذرہ تسبیح میںشامل ہے۔کوئی کہے کہ پھرحضرت دائود کی خصوصیت کیا ہوئی تو یادرکھنا چاہیے کہ اس میںتو ان کی کوئی خصوصیت نہیں کہ پہاڑ ان کے لئے مسخر تھے کیونکہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ زمین و آسمان میںجو کچھ ہے وہ خدا تعالیٰ نے سب انسانوں کے لئے مسخر کردیا ہے۔جس ملک کا خدا تعالیٰ کسی کو بادشاہ بنادیتا ہے اس میںاسے عام انسانوں سے زیادہ عظمت حاصل ہوتی ہے پس گو زمین و آسمان کی چیزیں حضرت دائود ؑکے لئے اسی طرح مسخر تھیںجس طرح تمام بنی نوع انسان کے لئے۔لیکن حضرت دائود ؑ کو ایک زائد فائدہ یہ تھا کہ خدا تعالیٰ نے ان کو بادشاہ بھی بنا دیا تھا۔پس گو تسخیر بعینہٖ وہی ہے جوہرانسان کے لئے ہے مگر اس تسخیر کی عظمت میں فرق ہے۔اب میںلغت سے بتاتاہوں کہ اس کے اور معنے بھی ہیں۔چنانچہ جَبَل کے معنے لغت میںسَیّدُ الْقَوْمِ کے لکھے ہیںپس حضرت دائود ؑکے لئے جبال مسخر کردینے کے معنے یہ تھے کہ حضرت دائود ؑیہود کے وہ پہلے بادشاہ تھے