تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 63

کے انعامات بھی ابراہیمی انعا مات سے بہت بڑھ کر ہیں۔لوگوں کو غلطی صرف کَمَا کے لفظ سے لگی ہے۔حالانکہ اس جگہ مَا مصدر یہ ہے اور کَمَاصَلَّیْتَ کے صرف اتنے معنے ہیں کہ کَصَلٰوتِکَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ یعنی جس طرح تونے ابراہیم پراپنی برکات نازل کیں اسی قسم کی برکات محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی نازل فرما اگر کَمَا صلَّیْتَ کی بجائے اَلیٰ قَدْرِ مَاصَلَّیْتَ کہاجاتا تو بے شک اس کے یہ معنے ہوسکتے کہ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس درجہ کا درود بھیج جس درجہ کا درود تم نے ابراہیم علیہ السلام پر بھیجا تھا مگر یہاں درجہ کا ذکر نہیں بلکہ قسم کا ذکر ہے اور مراد یہ ہے کہ جس قسم کی برکت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کی اولاد کو دی گئی تھی وہی قسم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اولاد کو بھی ملے۔اور وہ یہی برکت ہے کہ جو کچھ ابراہیم ؑ نے مانگا تھا خدا نے اس سے بڑھ کر اسے انعام دیا اسی طرح ہمیںیہ دعا سیکھائی گئی ہے کہ جو کچھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگاہے اے خدا تو اس سے بڑھ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت پر انعام واکرام کی بارش نازل فرما۔آج کل اسلام کے خلاف سب سے بڑا فتنہ عیسائیت کاہے۔اور عیسائیت اس بات کی مدعی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میںسے تھے(متی باب ۱۱ ٓیت ۱۷)۔پس درود میںیہ دعا سیکھائی گئی ہے کہ اے خدا یہ جتنی ترقیاں عیسائیت کو مل رہی ہیںیہ حضر ت ابراہیم علیہ السلام کے ان وعدوں کی وجہ سے ہیں جو تو نے ان سے کیے تھے۔ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیںکہ ابراہیمی وعدوںکی وجہ سے اس کی ایک شاخ جو اسحاق ؑ سے تعلق رکھتی تھی اس پر جو تو نے فضل نازل کئے ہیں اس سے بڑھ کر اسماعیل ؑکی نسل یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ سے تعلق رکھنے والوںپرفضل نازل فرما۔اگر اللہ تعالیٰ ادھر سے اپنی برکتیں ہٹالے اور ان کا رخ اسماعیل ؑ کی نسل کی طرف پھیردے تو عیسائیت ایک دن میںختم ہوجاتی ہے پس یہ ایک عظیم الشان دعاہے جو اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے سیکھائی گئی ہے اور پھر یہ ایک ایسی دعا ہے جس میںدنیا کے ہر ملک اور ہر علاقہ کا مسلمان شامل ہے گویا یہ ایسی کامل دعا ہے کہ نہ آقا اس سے باہر رہتاہے اور نہ امت محمدیہ کاکوئی فرد باہر رہتاہے آج کل یوروپین اقوام کو جو طاقت حاصل ہے یہ صرف ان وعدوں کی وجہ سے ہےجو اسحاق ؑکی نسل سے کئے گئے تھے اگر اب اسماعیل ؑ کی نسل سے اس کے وعدے پورے ہونے شروع ہوجائیںتو عیسائیت اس طرح ختم ہوجائے گی جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے پر حزقیل ؑیرمیاہؑ یسعیا ہؑ اور یحیٰ ؑوغیرہ ختم ہوگئے ہیں اور اسلام کو وہ شوکت حاصل ہوجائے گی جو مسلمانوں کے وہم وگمان میںبھی نہیں ہے۔