تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 62

صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً حضرت ابراہیم علیہ السلام سے افضل ہیں۔اگر آپ افضل نہ ہوتے تو آپ خاتم النبیین اور سید ولد آدم کس طرح ہوسکتے ہیں پس جہاں تک محمدی مقام کاسوال ہے وہ ابراہیمی مقام سے یقیناً افضل ہے مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ان ذاتی خوبیوں کے علاوہ قرآن کریم سے ہمیںان کی ایک اور خوبی بھی معلوم ہوتی ہے۔جو قومی انعام کے رنگ میں ظاہر ہوئی اور وہ یہ کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعامانگی تھی کہ رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ (البقرۃ:۱۲۹)یعنی اے ہمارے رب ہمیںاپناسچا فرمانبردار بنائیواور ہماری ذریت میںسے بھی ایک ایسی امت پیداکیجئو جوتیری رضا کوحاصل کرنے والی اور تیری راہوں پر چلنے والی ہو اللہ تعالیٰ نے اس دعاکو اس رنگ میں قبول فرمایا کہ وہ فرماتا ہے وَ جَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ (العنکبوت:۲۸) ہم نے ابراہیم ؑکی ذریت میںنبوت رکھ دی گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے جو کچھ مانگا تھا اللہ تعالیٰ نے اس سے بڑھ کر آپ کوانعام دیا اس نقطہ نگاہ سے جب ہم درود میںیہ کہتے ہیں کہ اے اللہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پربھی اسی طرح فضل نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم پر فضل نازل فرمایا۔تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ خدا یا جومعاملہ تو نے ابراہیم علیہ السلام سے کیا تھا وہی سلوک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کرنا جس طرح حضر ت ابراہیم علیہ السلام نے جو کچھ مانگا تھا تونے اس سے بڑھ کر ان کو انعام دیا۔اسی طرح محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ مانگا ہے اس سے بڑھ کر آپ کو انعام دیجیئو اب یہ امر ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے عرفان کے مطابق دعائیںکیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عرفان کے مطابق کیں۔بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ سے اتنی دعائیں کی ہیںکہ مجموعی طورپر تمام انبیاء نے بھی اتنی دعائیںنہیںکی ہوںگی۔پھر جب یہ مسلمہ امر ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عرفان ابراہیمی عرفان سے بہت بالا تھا تو پھریہ بھی یقینی امر ہے کہ آپ کی دعائیں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائوں سے بڑھی ہوئی تھیں۔او ر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو جوکچھ ملنا ہے وہ بھی ابراہیمی انعام سے بہت زیادہ ہے پس درود میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدارج کی بلندی اور آپ کی امت کی ترقی کے لئے اتنی جامع دعا سیکھائی گئی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی دعا تصور میںبھی نہیںآسکتی۔کیونکہ اس میںیہ سکھایا گیا ہے کہ الٰہی وہ رحمتیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ ان کی ذریت پر نازل ہوئیں ان سے بڑھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ نازل کی جائیں یعنی جس طرح ابراہیم علیہ السلام کو ان کے مانگنے سے بڑھ کر ملا اسی طر ح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ مانگاہے آپ کو بھی اس سے بڑھ کر انعام دیا جائے۔اور چونکہ وسعت فیض کے لحاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں بہت بڑھی ہوئی ہیںاس لئے آپ