تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 625 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 625

یہی آیت پڑھ کر انہیں جواب دیا تھا۔بہر حال نبی کی آواز پر فوراً لبیک کہنا ایک ضروری امر ہے بلکہ ایمان کی علامتوں میں سے ایک بڑی بھاری علامت ہے چونکہ پچھلی آیات سے خلافت ِ اسلامیہ کے متعلق مضمون بیا ن کیا جا رہا ہے اور تمام احکام نظام اسلام کی مضبوطی کے متعلق دئے گئے ہیں اس لئے اس آیت میں بھی اسی مضمون کو جاری رکھا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ مومنوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے مومنو! اگر کبھی خدا تعالیٰ کا رسول تمہیں بلائے تو اس کے بلانے کو دوسروں کے بُلانے جیسا مت سمجھو بلکہ فوراً اُس کی آواز پر لبیک کہا کرو۔گویا بتا یا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو الگ الگ حیثیتیں ہیں۔ایک افسرِ دنیوی ہونے کی اور ایک نبی ہونے کی۔دنیوی رئیس ہونے کے لحاظ سے بھی اُس کے احکام کو ماننا ضروری ہے مگر رئیسِ دینی ہونے کے لحاظ سے تو اُس کی آواز پر لبیک کہنا اور بھی مقدم ہے۔یہی حکم اپنے درجہ کے مطابق خلیفئہ رسولؐ اللہ پر بھی چسپاں ہوتا ہے اور اُس کی آواز پر جمع ہو جانا بھی ضروری ہوتا ہے اور اُس کی مجلس سے بھی چپکے سے نکل جانا بڑ ا بھاری گنا ہ ہوتا ہے۔دیکھو تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ جنگِ حنین کے موقعہ پر جب مکہ کے کافر لشکر اسلام میں یہ کہتے ہوئے شامل ہوگئے کہ آج ہم اپنی بہادری کے جوہر دکھائیں گے اور پھر بنوثقیف کے حملہ کی تاب نہ لا کر میدانِ جنگ سے بھاگے تو ایک وقت ایسا آیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگر دصرف بارہ صحابی ؓ رہ گئے۔اسلامی لشکر جو دس ہزار کی تعداد میں تھا اس میں بھاگڑ مچ گئی اور کفار کا لشکر جو تین ہزار تیراندازوں پر مشتمل تھا آپ کے دائیں بائیں پہاڑیوں پر چڑھا ہو ا آپ پر تیر برسا رہا تھا۔مگر اُس وقت بھی آپ پیچھے نہیں ہٹنا چاہتے تھے بلکہ آگے جانا چاہتے تھے۔حضرت ابو بکر ؓ نے گھبرا کر آپ کی سواری کی لگام پکڑ لی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میری جان آپ پر قربان ہو۔یہ آگے بڑھنے کا وقت نہیں۔ابھی لشکرِ اسلام جمع ہو جائےگا تو پھر ہم آگے بڑھیں گے۔مگر آپ نے بڑے جو ش سے فرمایا کہ میری سواری کی باگ چھوڑ دو اور پھر ایڑی لگاتے ہوئے آگے بڑھے اور یہ کہتے جاتے تھے کہ اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ یعنی میں موعو د نبی ہوں جس کی حفاظت کا دائمی وعدہ ہے جھوٹا نہیں ہوں۔اس لئے تم تین ہزار تیر انداز ہو یا تیس ہزار مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں اور اے مشرکو! میری اس دلیری کو دیکھ کر کہیں مجھے خدا نہ سمجھ لینا میں ایک انسان ہوں اور تمہارے سردار عبدالمطلب کا بیٹا ( یعنی پوتا ) ہوں۔آپ کے چچا حضرت عباس ؓ کی آواز بہت اونچی تھی۔آپ نے اُن کی طرف دیکھا اور فرمایا ! عباس ؓ آگے آئو اور آواز دو اور بلند آواز سے پکارو کہ اے سورۂ بقرہ کے صحابیو! ( یعنی جنہوں نے سورۂ بقرہ یاد کی ہوئی ہے ) اے حدیبیہ کے دن درخت کے نیچے بیعت کرنے والو ! خدا کا رسول تم کو