تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 618
ایک حدیث میں فرمایا کہ جذامی سے بچو تا ایسا نہ ہو کہ تم بھی اس مرض میں مبتلا ہو جائو(بخاری کتاب الطبّ باب الجزام) اور قرآن کریم نے اصولی طور پر یہ ہدایت دی ہے کہ لَاتُلْقُوْا بِاَیْدِ یْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ (البقرۃ :۱۹۶) یعنی اپنے آپ کو جان بوجھ کر ہلاکت میں مت ڈالو۔پس یہاں بیماری سے وہ معمولی عوارض مراد ہیں جو عام طور پر ہوتے رہتے ہیں اور جن میں مبتلا انسانوں کا تندرست انسانوں کے ساتھ مل کر بیٹھنا کوئی نقصان د ہ نہیں سمجھا جاتا۔اور نہ دوسروں کی صحت پر اس کا کوئی برا اثر پڑ تا ہے۔مثلاً سردرد ہے یا گلے کی خرابی ہے یا اعصاب میں درد کی شکایت ہے یا معمولی حرارت ہے یا اسی قسم کی اور کئی بیماریاں ہیں اس قسم کا آدمی بیما ر بھی ہوتا ہے اور کھانے میں اُس کا شریک ہونا بھی طبائع پر گراں نہیں گذرتا۔اَنْ تَاْکُلُوْا مِنْ بُیُوْتِکُمْ کے متعلق عام طور پر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اپنے گھر سے تو ہر شخص کھایا ہی کرتا ہے۔پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ اگر تم اپنے گھروں سے کھا لیا کرو تو تم پر کوئی الزام نہیں۔کیا کوئی شخص ایسا بھی ہوتا ہے جو اپنے گھر سے نہ کھاتا ہو اور اپنے گھر سے کھانا کھانے کے لئے بھی اُسے کسی اجازت کی ضرورت ہو سو یاد رکھنا چاہیے کہ اس جگہ بُیُوْتِکُمْ سے اپنے بیٹوں اور بیویوں کے گھر مراد ہیں۔اور چونکہ بیٹا اپنے باپ سے الگ نہیں ہوتا اور نہ بیوی اپنے خاوند سے جدا ہوتی ہے اس لئے اُن کے گھروں کو بُیُوْتِکُمْ کہا گیا۔یعنی وہ ایسے ہی ہیں جیسے تمہارے اپنے گھر ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آگے جن بیوت کا ذکر کیا گیا ہے اُن میں اولاد اور بیویوں کے گھروں کا ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ انہیں بُیُوْتِکُمْ میں ہی شامل کر لیا گیا ہے۔پھر فرماتا ہےلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِيْعًا اَوْ اَشْتَاتًا۔تم پر اس بارہ میں بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی ناواجب قید نہیں کہ تم اکٹھے مل کر کھائو یا الگ الگ کھائو۔تمہارا جی چاہے تو مل کر کھائو اور جی چاہے تو الگ الگ کھا لو۔الگ الگ کھانے کی اجازت بتاتی ہے کہ یہ خدا کی کتاب ہے جس کو ہندوستان کے اس رواج کا پتہ تھا کہ رشتہ دار بھی اکٹھے نہیں کھا سکتے بلکہ سب الگ الگ کھاتے ہیں۔مگر اس کے علاوہ جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا میں اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ تم اپنے ان قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے ہاں اُن کی اجازت سے بھی کھانا کھا سکتے ہو۔اور بن بلائے بھی اُن کے ہاں کھانا کھا سکتے ہو۔اجازت کا استنباط تو جمیعًا کے لفظ سے ہوتا ہے کیونکہ جب سب مل کر کھائیں گے تو سمجھا جائےگا کہ گھروالوں نے سب کو کھانے میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔اور بن بلائے کھانا کھانے کا جواز اَشْتَاتًا سے نکلتا ہے۔کیونکہ جب کوئی شخص اکیلا کھائےگا تو سمجھا جائےگا کہ وہ بن بلائے آکر کھا رہا ہے۔غرض بتایا کہ اکٹھا کھانا کھانا بھی تمہارے لئے جائز ہے یعنی اجازت سے اور الگ الگ بھی۔یعنی بغیر اجازت