تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 617 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 617

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تنافر کے حلقہ کو یہودیوں نے اتنا وسیع کر دیا تھا کہ وہ بیماروں اور اندھوں اور لنگڑوں وغیرہ سے لے کر خاص خاص نوکریوں پر کام کرنے والوں کے ساتھ بھی کھانا کھانا معیوب سمجھتے تھے۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ ایک ایسی تعلیم لے کر آئے جو عالمگیر اخوت کو ترقی دینے والی اور انسانیت کو اعلیٰ درجہ کی بنیادوں پر استوار کر نےوالی تھی اس لئے آپ نے اُن تمام طوقوں کو کاٹ کر رکھ دیا جو پُرانے مذاہب نے اُن کے گلوں میں ڈال رکھے تھے اور اُ ن تمام زنجیروں کو قطع کر دیا جنہوں نے رسم و رواج کی صورت میں انہیں جکڑ رکھا تھااور بتایا کہ چھوت چھات کو اپنے لئے لعنت سمجھو اور اخوت کو ترقی دینے کے لئے تمام بنی نوع انسان کو ایک سطح پر لا کر کھڑا کرو۔اور اپنے رشتہ داروں سے تعلقات ِ محبت زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کرو۔رشتہ داروں کا ذکر اس لئے بھی کیا گیا ہے کہ دنیا میں ایک طبقہ اپنے قریبی رشتہ داروں کے ہاں کھانا کھانا بھی معیوب سمجھتا ہے۔ہندوؤں کو بھی دیکھ لو۔وہ اپنی بیٹی کے گھر سے پانی تک پینا گناہ سمجھتے ہیں اور چونکہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمان ایک لمبے عرصہ تک مل جل کر رہے اس لئے بعض ہندو انہ رسوم مسلمانوں میں داخل ہو گئیں اور ان کا بھی ایک حصہ اس قسم کی رسوم میں مبتلا ہو گیا بلکہ موجودہ تہذیب کے دور میں یوروپین قوموں میں بھی یہ دستور پایا جاتا ہے کہ اگر بیٹا بھی باپ کے ہاں چلا جائے تو اُسے گھر کی بجائے ہوٹل میں ٹھہرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔گویا باوجود اس کے کہ آج کل تہذیب عروج پر ہے پھر بھی تمدنی اور معاشرتی معاملات میں ابھی دنیا کی مہذب اقوام کو بھی قرآنی تعلیم سے ہزاروں سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔غرض یہ چیزیں چونکہ دلوں میں مغائرت کا جذبہ پیدا کرتی ہیں اور باہمی محبت کو قطع کرتی ہیں اس لئے اسلام نے اپنے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے ہاں سے کھانا کھانے کی اجازت دی تاکہ آپس کے تعلقات بڑھیں اور مغائرت اور اجنبیت کا احساس دلوں پر غالب نہ آنے پائے۔غرض اس آیت میں بتا یا گیا ہے کہ اندھے اور لنگڑے یا بیمار کا بوجہ معذوری کے معروف حد تک رہنے یا اپنے یا اپنے رشتہ داروں کے گھروں سے بن بلائے کھانا کھا لینا یا تندرست کا اپنے نہایت قریبی رشتہ داروں کے گھروں میں کھانا کھا لینا کوئی معیوب امر نہیں۔اسی طرح اگر کسی کے مال کا نگران آدمی کسی کے مال کو معروف طور پر کھا لے تو یہ کوئی الزام کی بات نہیں۔یہ عرف عام سے تعلق رکھنے والی ایک بات ہے اور عرفِ عام پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس جگہ مریضو ں کے ساتھ مل کر کھانا کھانے سے یہ مراد نہیں کہ متعدی اور خطرناک امراض میں مبتلا انسانوں کے ساتھ بھی کھانا کھا لوتو حر ج نہیں اسلام نے اس قسم کے حالات کو بھی مدنظر رکھا ہے اور متعدی امراض میں مبتلا انسانوں سے مناسب حفاظت اور بچائو کی تاکید کی ہے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے