تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 614 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 614

کی وجہ سے سرانجام نہیں دے سکتے۔یعنی وہ کام جس کے لئے بینائی کی ضرورت ہو اس کے نہ بجا لانے پر اندھوں پر کسی قسم کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔اور وہ کا م جس کے لئے صحیح سالم ٹانگوں کی ضرورت ہو اس کے سرانجام نہ دینے پر شریعت لنگڑوں کو کسی قسم کے الزام کے نیچے نہیں لاتی۔اسی طرح ہر وہ کام جس کے لئے جسمانی طاقت کی ضرورت ہے اس کے سرانجام نہ دینے کی وجہ سے بیماروں پر کوئی گرفت نہیں کی جا سکتی۔ابن عطیہ ؒ نے بھی اسی کی تائید کی ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ اس جگہ حَرَجٌ سے ہر وہ معذوری مراد ہے جو کسی اندھے یا لنگڑے یا بیمار کو لاحق ہو مثلاً بیمار آدمی روزہ نہیں رکھ سکتا۔اندھا اور لنگڑا جہاد میں شریک نہیں ہو سکتا۔یا اسی قسم کے اور کئی کاموں میں حصہ نہیں لے سکتا۔ایسی تمام معذوریاں اللہ تعالیٰ مدنظر رکھےگا۔اور ان لوگوں کو ثواب سے محروم نہیں کرےگا۔ان کے نزدیک وَ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ سے وہ مضمون شروع ہوتا ہے جس کا معاشرتی آداب کے ساتھ تعلق ہے۔(قرطبی زیر آیت ھذا) اوپر کی تشریح سے ظاہر ہے کہ مفسرین کو اس آیت کے معنے کرنے میں اچھی خاصی مشکل پیش آئی ہے یہاں تک کہ بعض لوگوں نے اس آیت کو ہی منسوخ قرار دے دیا ہے۔مگر یہ عقیدہ کہ قرآن کریم میں کوئی منسوخ آیت بھی ہے نہایت گندہ اور خلافِ اسلام عقیدہ ہے جس کے نتیجہ میں قرآ ن کریم کی کسی آیت کا بھی اعتبار نہیں رہتا۔اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ قرآن کریم کے بعض حصے منسوخ ہیں اور دوسری طرف یہ دیکھا جائے کہ ہمیں خدا نے یہ بتا یا ہی نہیں کہ کون سا حصہ منسوخ ہے اور کون سا قابلِ عمل تو ہر آیت پر عمل کرتے وقت طبیعت میں یہ خلجان رہےگا کہ نہ معلوم جس آیت پر میں عمل کر رہا ہوں وہ منسوخ ہے یا غیر منسوخ اور اس طرح ساری کتاب پر سے ہی اعتبار اٹھ جاتا ہے۔پس یہ تو قطعی طور پر غلط ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے۔قرآن کریم کی ایک آیت چھوڑ ایک حرف بلکہ ایک زیر اور زبر بھی منسوخ نہیں بلکہ بسم اللہ سے لے کر والناس تک ساری کتاب قابلِ عمل ہے۔ہمارا کام یہ ہے کہ اگر ہمیں کسی آیت کے صحیح معنے معلوم نہ ہوں تو ہم اس پر غور کریں۔یہ نہیں کہ اُسے منسوخ قرار دے دیں اور اس طرح خدا تعالیٰ کے کلام کی ہتک کریں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ آیت اسلام اور یہودیت کے ایک بہت بڑے امتیاز پر دلالت کرتی ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا کے لئے رحمت کا ایک بادل بن کر آیا تھا جو دلوں کی مرجھائی ہوئی کھیتیوں پر اس شان سے برسا کہ اُس نے انہیں سرسبزو شاداب بنا دیا اور ستم رسیدہ انسانوں کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ کھیلنے لگی۔اسلام سے پہلے دنیا میں صرف یہودی مذہب ہی ایک ایسا مذہب تھا جو اپنے زمانہ کے لحاظ سے تفصیلی شریعت