تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 613
ہے۔اور اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ یٰٓا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ ( النساء :۳۰) تو صحابہ ؓ نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھانا کھانا ترک کر دیا اور سمجھا کہ اس طرح ہم اندھوں لنگڑوں اور بیماروں کا حق ناجائز طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔اس پراللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔پس ان کے نزدیک یٰٓا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ والی آیت منسوخ ہے اور یہ آیت ناسخ ہے۔لیکن ایک تیسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ یہ آیت نہ ناسخ ہے نہ منسوخ بلکہ محکم آیات میں سے ہے اور اس کے ثبوت میں وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں یہ ذکر آتا ہے کہ صحابہ ؓ جہاد پر جاتے وقت بعض لوگوں کے سپرد اپنے مکانات کی حفاظت اور نگرانی کا کام کر جاتے مگر وہ ان کے کھانے پینے کی چیزیں استعمال نہیں کرتے تھے۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی پس یہ منسوخ نہیں بلکہ محکم آیت ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ عرب اور مدینہ کے رہنے والے عموماً اندھوں ،لنگڑوں اور بیمار وں کے ساتھ کھانا نہیں کھایاکرتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اندھا کھانے میں ہاتھ ڈالےگا تو چونکہ اُسے کچھ دکھائی نہیں دیتا اس لئے وہ ادھر اُدھر ہاتھ مارےگا اور کھانا خراب ہو جائےگا۔اور لنگڑے کی نشست دیکھ کرا نہیں انقباض محسوس ہوتا اور بیمار کی بُو اور اس کی شکل اور بیماری کے مختلف عوارض سے انہیں تکلیف ہوتی۔یہ طریق عمل چونکہ اُن کے کِبر پر دلالت کرتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر انہیں ہدایت دی کہ ایسے معذوروں اور قریبی رشتہ داروں کے ہاں سے کھانا کھا لینے میں کوئی حرج نہیں۔مفسرین نے اس بات پر بھی بحث کی ہے کہ یہ ساری آیت آیا ایک ہی مضمون پر مشتمل ہے یا اس میں الگ الگ مضامین بیان کئے گئے ہیں۔چنانچہ اس کے متعلق بھی دو گروہ پائے جاتے ہیں۔بعض لوگ تو کہتے ہیں کہ یہ تمام آیت لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ سے لے کر کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ تک معاشرتی آداب اور ایک دوسرے کے ہاں کھانا کھا لینے کے مضمون کے ساتھ ہی تعلق رکھتی ہے۔لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ اَنْ تَاْکُلُوْا مِنْ بُیُوْتِکُمْ اور اس سے اگلی قیدیں عَلٰۤى اَنْفُسِکُمْ کے ساتھ ہیں۔اور اس آیت کا پہلا ٹکڑا ایک الگ ٹکڑا ہے جس کا کھانا کھانے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ایسے لوگوں نے لَيْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِيْضِ حَرَجٌ کے یہ معنے کئے ہیں کہ یہ لوگ چونکہ اپنی معذوری کی وجہ سے جہاد میں شریک نہیں ہو سکتے اس لئے ان پر کوئی الزام نہیں۔علامہ قرطبی ؒ نے اسی آخری توجیح کو پسند کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اندھوں اور لنگڑوں اور بیماروں پر سے اُن تمام احکام کی پابندی دُور کر دی ہے جن کو وہ اپنی معذوری