تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 609

جب تَبَرَّجَتِ الْمَرْاَۃُ کہیں تو عربی زبا ن میں اس کے معنے ہوںگے اَظْھَرَتْ زِیْنَتَھَا لِلْاَجَانِبِ کہ عورت نے اپنی زینت کو نامحرم لوگوں کے لئے ظاہر کیا ( اقرب) پس غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍ کے معنے ہوںگے وہ عورتیں اپنی زینت کو غیروں کے لئے ظاہر نہ کریں۔تفسیر۔اس جگہ یہ حکم دیا گیا ہے کہ جو عورتیں بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہو جائیں اور نکاح کے قابل نہ رہیں وہ اگر معروف پردہ چھوڑ دیں تو جائز ہے ہاں خواہ مخواہ زیور پہن کر اور بنائو سنگار کرکے باہر نہ نکلیں یعنی پردہ ایک عمر تک ہے اس کے بعد پردہ کے احکام ساقط ہو جاتے ہیں۔ہمارے ملک نے پردہ کے احکام کو ایسی بُری طرح استعمال کیا ہے کہ جوان عورتیں پردہ چھوڑ رہی ہیں۔اور بوڑھی عورتوں کو جبرًا گھروں میں بٹھایا جا رہا ہے۔اس آیت میں بوڑھی عورتوں کے لئے قَوَاعِدُ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو جمع ہے اور اس کا مفرد قَاعِدٌ بھی آتا ہے اور قَاعِدَۃٌ بھی لیکن اس آیت میں قَوَاعِدُ قاعدٌ کی جمع ہے۔اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ عورت کے بیٹھنے سے مراد اس کا بڑھاپے کی وجہ سے بیٹھنا ہے۔جبکہ وہ اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں رہتی۔عربی قواعد کی رو سے قَاعِدٌ وہ صیغہ ہے جو مذکر کے لئے استعمال ہوتا ہے اور جب مؤنث کے لئے استعمال کریں تو ’’ۃ‘‘ زائد کر دیتے ہیں۔لیکن جو چیز عورتوں کے ساتھ مخصوص ہو اور اس میں مردوں کے شامل ہونے کا کوئی اشتباہ واقعہ نہ ہوتا ہو وہاں تانیث کی علامت لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔جیسے عربی میں اس عورت کو جسے حمل ہو چکا ہو اِمْرَأَ ۃٌ حَامِلٌ کہیں گے۔پس نحویوں نے استدلال کیا ہے کہ اس جگہ قَوَاعِدُ کا لفظ چونکہ ایسے معنے رکھتا ہے جو مرد پر چسپاں نہیں ہو سکتے اس لئے اس کے مفرد کے ساتھ بھی مؤنث کی علامت نہیں ہونی چاہیے پس یہ قَاعِدۃٌ کی جمع نہیں بلکہ قَاعِدٌ کی جمع ہے۔ضمنی طور پر اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَا بَھُنَّ سے معلو م ہوتا ہے کہ عورت کا چہرہ پردہ میں شامل ہے ورنہ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَا بَھُنَّ کے یہ معنے کرنے پڑیں گے کہ مونہہ اور ہاتھ تو پہلے ہی ننگے تھے اب سینہ اور بازو بھی بلکہ سارا بدن بھی ننگا کرنا جائز ہو گیا حالانکہ اسے کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔وَ اَنْ يَّسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّهُنَّ۔بعض لوگوں نے اس آیت کے یہ معنے کئے ہیںکہ اگر وہ بچیں تو بہتر ہے لیکن یہ معنے درست نہیں کیونکہ اس آیت میں اِنْ کا لفظ استعمال نہیں ہوا بلکہ اَنْ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔عربی میں اگر کا مفہوم ادا کرنے کے لئے اِنْ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور اَنْ مصدری معنے دینے کے لئے آتا ہے۔پس اس آیت کے یہ معنے نہیں کہ اگر وہ اس سے بچیں تو بہتر ہے بلکہ یہ معنے ہیں کہ اس سے بچنا ان کے لئے بہر حال بہتر ہے۔یعنی جائز ہے کہ پردہ چھوڑ دیں لیکن اگر وہ پردہ جاری رکھیں تو کئی لحاظ سے اس میں بھی اُن کے لئے بہتری ہوگی۔مثلاً اس سے