تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 608 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 608

کے اوقات ہیں جن میں اسلام مومنوں کو چوکس اور ہوشیار رہنے کی نصیحت فرماتا ہے۔اس کے بعد فرماتا ہے کہ جب بچے جوان ہو جائیں تو پھر ان تین کمزور ی کے وقتوں کا سوال نہیں ہر وقت اُن کو اجازت لینی چاہیے۔یعنی جب مسلمانوں کو جب حکومت مل جائے تو انہیں ہر وقت اپنے ملک کی حفاظت کا فکر رکھنا چاہیے اور کبھی بھی اس سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اپنی طاقت کے زمانہ میں اس ہدایت پر عمل نہ کیا اور وہ اپنی حفاظت سے ایسے غافل ہوئے کہ دشمن انہیں تباہ کرنے میں کامیاب ہو گیا چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تک بھی گھروں کے دروازے ہوتے تھے جن کے کھولے بغیر کوئی شخص اندر داخل نہیں ہو سکتا تھا لیکن خلافت ِ عباسیہ اور خلافت اندلس اور خلافتِ فاطمیہ میں دروازے نہیں ہوتے تھے بلکہ صرف زینت کے طور پر پردے گرائے جاتے تھے گویا زینت اس وقت مقدم ہوگئی تھی اور حفاظتِ نفس مؤخر ہوگئی تھی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی خلفاء غلاموں کے ہاتھ سے ہی مارے گئے۔وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَيْسَ اور وہ عورتیں جو کہ بڑھیا ہوگئی ہیں (اور) نکاح کے قابل نہیں اُن پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے کپڑے عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ يَّضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ اتار کر رکھ دیں اسی طرح کہ زینت کو ظاہر نہ کیا کریں اور اُن کا بچے رہنا اُن کے لئے بہتر ہوگا اور بِزِيْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ يَّسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۰۰۶۱ اللہ (تعالیٰ) بہت سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔حلّ لُغَات۔اَلْقَوَاعِدُ۔اَلْقَوَاعِدُ اَلْقَاعِدُ کی جمع ہے اور اَلْقَاعِدُ کے معنے ہیں اَلْمَرْأَۃُ الَّتِیْ قَعَدَتْ عَنِ الْوَلَدِ وَعَنِ الزَّوْجِ وہ عورت جو بچے پیدا کرنے اپنے خاوند کے ساتھ تعلق قائم کرنے کا زمانہ ختم کر چکی ہو ( اقرب) ثِیَابٌ۔ثیاب ثَوْبٌ کی جمع ہے اور ثوب کے معنے کپڑے کے ہیں۔لیکن محاورہ میں ثِیَابٌ دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی کہتے ہیں۔مُتَبَرِّجَاتٍ۔تَبَرَّجَ سے اسم فاعل مؤنث کا صیغہ مُتَبَرِّ جَۃٌ آتا ہے اور مُتَبَرِّ جٰتٍ جمع کا صیغہ ہے۔