تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 57
لوٹیںاس پر اس کی قوم کے لوگ بہت بگڑے اور کہاکہ ہمارے معبودوںسے یہ کام کس نے کیاہے وہ بڑاظالم ہے جو لوگ ابراہیم ؑ سے بحث کرکے آئے تھےانہوںنے کہا کہ ایک نوجوان ان بتوںکابرائی سےذکر کرتاتھا۔اس کانام ابراہیم ہے۔سَمِعْنَا فَتًى يَّذْكُرُهُمْ سے مراد بھی یہی ہے کہ ان کابری طرح ذکر کرتاتھا چنانچہ اسی سورۃ میں آتاہے وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ۠ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ یعنی اے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) جب کفار تجھے دیکھتے ہیں تو وہ تجھے ایک حقیر چیز سمجھتے ہیںاور کہتے ہیںکہ کیا یہی وہ شخص ہے جو تمہارے معبودوںکابری طرح ذکر کرتاہے حالانکہ وہ خود رحمٰن خدا کے ذکر کا انکار کرتے ہیں۔بہرحال جب ابراہیم کے متعلق کچھ لوگوں نے مذ کورہ بالا باتیں کیں تو ابراہیم کی قوم نے کہاکہ سب شہریوں کے سامنے اس کو لائو تاکہ جن لوگوں نے اس کو مخالفت کرتے دیکھاہے وہ اس پر گواہی دیں اس طرح ثابت ہو جائےگا کہ بتوںکامنکر ہی یہ کام کر سکتاہے۔یا یہ کہ اس کے متعلق وہ یہ فیصلہ کریں کہ اس کو کیا سزاملنی چاہیے اور یایہ کہ وہ بھی اس کی سزا دیکھیں پھر انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہاکہ اے ابراہیم کیایہ سب کچھ تیری کرتوت ہے ابراہیم نے کہاکہ ہاں۔بَلْ فَعَلَهٗ یہ کام کسی نے کیا تو ضرور ہوگا بغیر کسی کے کرنے کے آپ ہی آپ تو ہو نہیںسکتا۔كَبِيْرُهُمْ هٰذَا اب یہ بت ان میں سے سب سے بڑا ہے تو ان صاحب سے پوچھو اگر بت بول سکتے ہیںتو یہ صاحب جواب دےدیںگے۔مجھ سے کیوں پوچھتے ہو۔بَلْ فَعَلَهٗکے ایک تو یہ معنے ہیںکہ بَلْ فَعَلہ فَاعِلٌ یعنی یہ کام کسی نے تو ضرور کیا ہوگا اس صورت میںبَلْ کے معنے اضراب کے نہیں ہوںگے بلکہ تصدیق کے ہوں گے کہ ہاں کسی نے تو کیا ہی ہوگا۔اور وقف سے ثابت ہوتاہے کہ اگلا حصہ الگ ہے اور اس میں سوال کیاہے کہ مجھ سے کیوں پوچھتے ہو اس بڑے بت سے پوچھ لیتے۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی عادت کے مطابق تعریضاًکلام کرتے ہیں کہ نہیں میںنے کیوں کرناتھااس نے کیا ہوگا ایسے کلام سے مراد انکار نہیں ہوتا بلکہ یہ مراد ہوتی ہے کہ کیایہ سوال بھی پوچھنے والا تھا میں نہ کرتا تو کیااس بت نے کرنا تھا؟ یہ جواب سن کر وہ لوگ دلوں میںشرمندہ ہوگئے اور کہنے لگے کہ تم خود ہی ظالم تھے پھر مزید غور پر اور بھی شرمندہ ہو ئے یا اپنی شرارت کی طرف لوٹ آئے اور بولے کہ ابراہیم تم جانتے ہو کہ یہ تو بولتے نہیں۔تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ کیاخدا تعالیٰ کے سوا ان بتوںکی تم پرستش کرتے ہوجو تمہیں کچھ بھی نفع نہیںدیتےاور نہ نقصان دیتے ہیں۔