تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 603
سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال تک کے لئے محفوظ کر سکتی ہے۔چنانچہ اسی کے مطابق میں نے آئندہ انتخاب خلافت کے متعلق ایک قانون بنا دیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت احمدیہ ایمان بالخلافت پر قائم رہی اور اس کے قیام کے لئے صحیح جدوجہد کرتی رہی تو خدا تعالیٰ کے فضل سے قیامت تک یہ سلسلہ خلافت قائم رہے گا اور کوئی شیطان اس میں رخنہ اندازی نہیں کر سکےگا۔ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر خلافت کا مسلمانوں سے وعدہ تھا تو حضرت علی ؓ کے بعد خلافت کیو ں بند ہوگئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وعدہ شرطی تھا۔آیت کے الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ یہ وعدہ ان لوگوں کے لئے تھا جو خلافت پر ایمان رکھتے ہوںگے اورحصول خلافت کے لئے جو مناسب قومی اعمال ہوںگے وہ کرتے رہیں گے۔کیونکہ یہاں اٰمَنُوْاوَعَمِلُواا لصّٰلِحٰتِ کے الفاظ ہیں اور صَلُحَ کے معنے عربی زبان میں ایسے کام کے ہوتے ہیں جو مناسب ِحال ہو۔چونکہ اس آیت میں خلافت کا ذکر ہے اس لئے اٰمَنُوْا سے مراد اٰمَنُوْا بِالْخلَافَۃِ ہے اور عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سے مراد عَمِلُوا عَمَلًا مُنَاسِبًا لِـحُصُوْلِ الْخلَافَۃِ ہے۔اگر یہ شرط پوری نہ ہوگی تو خدا تعالیٰ کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوگا حضرت علیؓ کے بعد صرف لفظ خلافت باقی رہ گیا تھا لیکن عملاً بادشاہت قائم ہوگئی اور خلافت کے لئے جو شرط ہے کہ تبلیغ دین اور تبلیغ اسلام کرے وہ مٹ گئی تھی۔پس شرط کے ضائع ہونے سے مشروط بھی ضائع ہو گیا۔اور خدا تعالیٰ کا وعدہ ٹل گیا۔ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ جب خلیفہ انتخاب سے ہوتا ہے تو پھر امت کے لئے اُس کا عزل بھی جائز ہوا (An Interpretation of Islam p۔84۔85 by Laura Veccia Valglieri)۔اس کا جواب یہ ہے کہ گو خلیفہ کا تقرر انتخاب کے ذریعہ سے ہوتا ہے لیکن یہ آیت نص صریح کے طورپر اس امر پر دلا لت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ امت کو اپنے فیصلہ کا اس امر میں ذریعہ بناتا ہے اور اُس کے دماغ کو خاص طور پر روشنی بخشتا ہے۔لیکن مقرر اصل میں اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے چنانچہ فرماتا ہے لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ کہ وہ خود اُن کو خلیفہ بنائے گا پس گو خلفاء کا انتخاب مومنوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا الہام لوگوں کے دلوں کو اصل حقدار کی طرف متوجہ کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ ایسے خلفاء میں مَیں فلاں فلاں خصوصیات پیدا کردیتا ہوں اور یہ خلفاء ایک انعامِ الٰہی ہوتے ہیں۔پس اس صورت میں اس اعتراض کی تفصیل یہ ہوئی کہ کیا امت کو حق حاصل نہیں کہ وہ اُس شخص کو جو کامل موحد ہے جس کے دین کو اللہ تعالیٰ نے قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے خدا نے تما م خطرات کو دُور کرنےکا وعدہ کیا ہے اور جس کے ذریعہ سے وہ شرک کو مٹانا چاہتا ہے اور جس کے ذریعہ سے وہ اسلام کو محفوظ کرنا چاہتا ہے معزول کر دے ؟ ظاہر