تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 604

ہے کہ ایسے شخص کو امتِ اسلامیہ معزول نہیں کر سکتی ایسے شخص کو تو شیطان کے چیلے ہی معزول کرنے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔دوسرا جواب یہ ہے کہ اس جگہ وعدہ کا لفظ ہے اور وعدہ احسان پر دلالت کرتا ہے۔پس اس اعتراض کے معنی یہ ہوںگے کہ چونکہ اس انعام کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے امت کے ہاتھ میں رکھا ہے اُسے کیوں حق نہیں کہ وہ اس انعام کو رّد کردے۔ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ استنباط بد ترین استنباط ہے جو انعام منہ مانگے ملے اُس کا رّد کرنا تو انسان کو اور بھی مجرم بنا دیتا ہے اور اُس پر شدید حجت قائم کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو فرمائےگا کہ اے لوگو ! میں نے تمہاری مرضی پر چھوڑ ا اور کہا کہ میرے انعام کو کس صورت میں لینا چاہتے ہو۔تم نے کہا ہم اس انعام کو فلاں شخص کی صورت میں لینا چاہتے ہیں اور میں نے اپنے فضل اُس شخص کے ساتھ وابستہ کر دئے۔جب میں نے تمہاری بات مان لی تو اب تم کہتے ہو کہ ہم اس انعام پر راضی نہیں اب اس نعمت کے رّد کرنے پر میں اس کے سوا اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ لَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ( ابراہیم :۸) اسی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ یعنی انتخاب کے وقت تو ہم نے امت کو اختیار دیا ہے مگر چونکہ اس انتخاب میں ہم امت کی رہبری کرتے ہیں اور چونکہ ہم اُس شخص کو اپنا بنا لیتے ہیں اس لئے اس کے بعد امت کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔اور جو شخص پھر بھی اختیار چلانا چاہے تو یاد رکھے کہ وہ خلیفہ کا مقابلہ نہیں کرتا بلکہ ہمارے انعام کی بے قدری کرتا ہے۔پس اگر انتخاب کے وقت وہ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ میں شامل تھا تو اب اس اقدام کی وجہ سے ہماری درگاہ میں اس کا نام اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کی فہرست سے کاٹا جائےگا اور فاسقوں کی فہرست میں لکھا جائےگا۔پھر فرماتا ہے۔وَاَقِیْمُوا الصّٰلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ۔اس آیت میں وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُو لٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ کے معاًبعد نماز اور زکوٰۃ اور اطاعت رسول ؐ کا ذکر کرکے اس طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر کسی وقت برکاتِ خلافت کے نزول میں کمی آجائے تو مسلمانوں کو بحیثیت قوم نمازوں میں لگ جانا چاہیے اور زکوٰۃ دینے میں چُست ہو جانا چاہیے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت اختیار کرنی چاہیے۔اگر وہ ایسا کریں گے تو اُن پر رحم کیا جائےگا اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ایسا نائب کھڑا کر دیا جائے گا جو سب مسلمانوں کو اکٹھا کر دے گا۔مگر بہر حال منکرین خلافت کبھی زمین پر غالب نہیں آئیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگ کھڑے کرتا رہے گا جو خلافت پر ایمان رکھتے ہوں۔خواہ جزوی ہی ہو۔چنانچہ خوارج جو منکرین خلافت ہیں کبھی بھی دنیا پر حاکم نہیں ہوئے بلکہ سُنی جو منہ سے خلافت کے قائل ہیں لیکن حضرت عثمان ؓ اور حضرت علیؓ کے زمانہ میں انہوں نے اپنی جانیں قربان کر کے خلافت کو قائم رکھنے کی کوشش نہیں کی وہی ہمیشہ غالب رہے ہیں۔