تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 602
ہیں۔پس اگر اس قسم کے اختلافات کے باوجو د آپ کی مشابہت میں فرق نہیں آتاتو اگر پہلوں کی خلافت سے بعض جزوی امور میں خلفائے اسلام مختلف ہوں تو اس میں اعتراض کی کونسی بات ہے ؟ اصل با ت جو اس آیت میں بتائی گئی تھی وہ یہ تھی کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو سنبھالنے کے لئے اُن کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ کی خاص حکمت نے بعض وجودوں کو اُن کی امت کی خدمت کے لئے چن لیا تھا اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی اللہ تعالیٰ بعض ایسے وجود کھڑے کرےگا جو آپ کی امت کو سنبھال لیں گے اور یہ مقصدبہ نسبت سابق خلفاء کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء نے زیادہ پورا کیا ہے۔پھر جس طرح موسیٰ علیہ السلام کے تیرہ سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسیح ناصری ؑ کو مبعوث فرمایا جو موسوی شریعت کی خدمت کرنے والے ایک تابع نبی تھے اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیرہ سو سال کے بعدا للہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا اور اس طرح اُس تابع نبوت کا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے مناسب حال امتی نبوت سے دروازہ کھو ل دیا۔اور آپ کے ذریعہ اُس نے پھر آپ کے ماننے والوں میں خلافت کو بھی زندہ کر دیا۔چنانچہ یہ سلسلۂ خلافت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد شروع ہوا اور خلافتِ ثانیہ تک ممتد رہا۔اور اگر جماعت احمدیہ میں ایمان بالخلافت قائم رہا اور وہ اس کو قائم رکھنے کے لئے صحیح رنگ میں جدوجہد کرتی رہی تو انشاء اللہ تعالیٰ یہ وعدہ لمبا ہوتا چلا جائےگا مگر جماعت احمدیہ کو ایک اشارہ جو اس آیت میں کیا گیا ہے کبھی نہیں بھولنا چاہیے اور وہ اشارہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔جس طرح ہم نے پہلوں کو خلیفہ بنایا اُسی طرح تمہیں خلیفہ بنائیں گے یعنی خلافت کو ممتد کرنے کے لئے پہلوں کے طریق انتخاب کو مدنظر رکھو۔اور پہلی قوموں میں سے یہودیوں کے علاوہ ایک عیسائی قوم بھی تھی جس میں خلافت بادشاہت کے ذریعہ سے نہیں آئی بلکہ اُن کے اندر خالص دینی خلافت تھی۔پس کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ میں پہلوں کے طریق انتخاب کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔آپ کا الہام ہے ’’ کلیسیا کی طاقت کا نسخہ ‘‘ ( تذکرہ اخبار بدر ۱۹؍ مئی ۱۹۰۶ء) یعنی کلیسیا کی طاقت کی ایک خاص وجہ ہے اس کو یاد رکھو۔گویا قرآن کریم نےکَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ کے الفاظ میں جس نسخہ کا ذکر کر دیا تھا۔الہام میں اس کی طرف اشارہ کر دیا گیا اور بتایا گیا کہ جس طرح وہ لوگ اپنا خلیفہ منتخب کرتے ہیں اسی طرح یا اس کے قریب قریب تم بھی اپنے لئے خلافت کے انتخاب کا طریقہ ایجاد کرو۔چنانچہ اس طریق سے قریبًا انیس سو سال سے عیسائیوں کی خلافت محفوظ چلی آتی ہے۔عیسائیت کے خراب ہونے کی وجہ سے بے شک انہیں وہ نور حاصل نہیں ہوتا جو پہلے زمانوں میں حاصل ہوا کرتا تھا مگر جماعت احمدیہ اسلامی تعلیم کے مطابق اس قانون کو ڈھال کر اپنی خلافت کو