تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 599 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 599

میَں نے دیکھا کہ عورتیں اپنے سر پر برتن رکھ کر پانی لینے جاتی تھیں اور ان کے بچوں نے جو پتلونیں پہنی ہوئی تھیں اُن کا کچھ حصہ کسی کپڑے کا ہوتا تھا اور کچھ حصہ کسی کپڑے کا۔مگر کہا یہی جاتا ہے کہ یوروپین بڑے دولتمند ہیں۔پس قوم سے وعدہ کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ افراد کے ذریعہ وہ وعدہ پورا نہ ہو۔کئی وعدے قوم سے ہی ہوتے ہیں لیکن پورے وہ افراد کے ذریعہ کئے جاتے ہیں۔اس کی مثال ہمیں قرآن کریم سے بھی ملتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاِذْقَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یَاقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآئَ وَجَعَلَکُمْ مُلُوْکًا (المائدۃ :۲۱)یعنی موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اُس نے تم میں اپنے انبیاء مبعوث کئے اور اُس نے تم کو بادشاہ بنایا۔اب کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ سب بنی اسرائیل بادشاہ بن گئے تھے۔یقیناً ان بنی اسرائیل میں بڑے بڑے غریب بھی ہوںگے مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام ان سے یہی فرماتے ہیں کہ جَعَلَکُمْ مُلُوْکًا۔اُس نے تم سب کو بادشاہ بنایا۔مراد یہی ہے کہ جب کسی قوم میں سے بادشاہ ہو تو چونکہ وہ قوم ان انعامات اور فوائد سے حصہ پاتی ہے جو بادشاہت سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے بالفاظ دیگر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ بادشاہ ہوگئی۔پس جبجَعَلَکُمْ مُلُوْکًا کی موجودگی کے باوجود اس آیت کے یہ معنے نہیں کئے جاتے کہ ہر یہودی بادشاہ بنا۔تو وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ سے یہ کیونکر نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ یہ وعدہ بعض افراد کے ذریعہ پورا نہیں ہونا چاہیے۔بلکہ امت کے ہر فرد کو خلافت کا انعام ملنا چاہیے۔پھر اگر اس سے قومی غلبہ بھی مراد لے لو تب بھی ہر مومن کو یہ غلبہ کہاں حاصل ہوتا ہے پھر بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ بعض افراد کو غلبہ ملتا ہے اور بعض کو نہیں ملتا۔صحابہؓ میں سے بھی کئی ایسے تھے جو قومی غلبہ کے زمانہ میں بھی غریب ہی رہے اور ان کی مالی حالت کچھ زیادہ اچھی نہیں ہوئی۔حضرت ابوہریرہ ؓ کا ہی لطیفہ ہے کہ جب حضرت علی ؓ اور حضرت معاویہ ؓ کی آپس میں جنگ ہوئی اور صفین کے مقام پر دونوں لشکر وں نے ڈیرے ڈال دئیے تو باوجود اس کے کہ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ ؓ کے کیمپوں میں ایک ایک میل کا فاصلہ تھا۔جب نماز کا وقت آتا تو حضرت ابوہریرہ ؓ حضرت علی ؓ کے کیمپ میں آجاتے۔اور جب کھانے کا وقت آتا تو حضرت معاویہ ؓ کے کیمپ میں چلے جاتے۔کسی نے اُن سے کہا کہ آپ بھی عجیب آدمی ہیں اُدھر علی ؓ کی مجلس میں چلے جاتے ہیں اور اُدھر معاویہ ؓ کی مجلس میں شریک ہو جاتے ہیں ؟ وہ کہنے لگے۔نماز حضرت علی ؓ کے ہاں اچھی ہوتی ہے اور کھانا حضرت معاویہ ؓ کے ہاں اچھا ملتاہے۔اس لئے جب نماز کا وقت ہوتا ہے میں اُدھر چلا جاتاہوں اور جب روٹی کا وقت آتا ہے ادھر آجاتا ہوں۔غیر مبائعین کا بھی ایسا ہی حال ہے۔بلکہ اُن کا لطیفہ تو ابوہریرہ ؓ کے لطیفہ سے بھی بڑھ کر ہے۔میں ایک دفعہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے