تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 595 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 595

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ فتح کرنے کے لئے گئے تو اُس وقت عرب کے بعض قبائل بھی آپ کی مدد کے لئے کھڑے ہو گئے۔اس طرح خدا تعالیٰ نے تدریجی طور پر دشمنوں میں جوش پیدا کیا تاکہ وہ اتنا زور نہ پکڑلیں کہ سب ملک پر چھا جائیں۔لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں یک دم تمام عرب مرتد ہوگیا۔صرف مکہ اور مدینہ اور ایک اور چھوٹا سا قصبہ رہ گئے۔باقی سب مقامات کے لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور وہ لشکر لےکر مقابلہ کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔بعض جگہ اُن کے پاس ایک ایک لاکھ کا بھی لشکر تھا۔مگر اِدھر صرف دس ہزار کا ایک لشکر تھا اور وہ بھی شام کو جارہا تھا۔اور یہ وہ لشکر تھا جسے اپنی وفات کے قریب رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رومی علاقہ پر حملہ کرنے کے لئے تیار کیا تھا۔اور اسامہ ؓ کو اس کا افسر مقرر کیا تھا۔باقی جو لوگ تھے وہ یا تو کمزور اور بڈھے تھے اور یا پھر گنتی کے چند نوجوان تھے۔یہ حالات دیکھ کر صحابہ ؓ نے سوچا کہ اگر ایسی بغاوت کے وقت اسامہؓ کا لشکر بھی روانہ ہوگیا تو مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں ہوسکے گا۔چنانچہ اکابر صحابہ ؓ کا ایک وفد جن میں حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ بھی شامل تھے اور جو شجاعت اور دلیری میں مشہور تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور عرض کیا کہ کچھ عرصہ کے لئے اس لشکر کو روک لیا جائے۔جب بغاوت فرو ہو جائے تو پھر بیشک اُسے بھجوا دیا جائے۔مگر اب اس کا بھجوا نا خطرہ سے خالی نہیں۔مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں اور دشمن کا لشکر ہماری طرف بڑھتا چلا آرہا ہے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نہایت غصہ کی حالت میں فرمایا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ابوقحافہ کا بیٹا سب سے پہلا یہ کام کرے کہ جس لشکر کو روانہ کرنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا اُسے روک لے۔میں اس لشکر کو کسی صورت میں روک نہیں سکتا۔اگر تما م عرب باغی ہوگیا ہے تو بیشک ہو جائے اور اگر مدینہ کی حفاظت کا کوئی ساما ن نہیں تو بے شک نہ رہے۔خدا کی قسم اگر دشمن کی فوج مدینہ میں گھُس آئے اور ہمارے سامنے مسلمان عورتوں کی لاشیں کتّے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں اس لشکر کو ضرور روانہ کروںگا جس کو روانہ کرنے کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔اگر تم دشمن کی فوجوں سے ڈرتے ہو تو بے شک میرا ساتھ چھوڑ دو۔میں اکیلا تمام دشمنوں کا مقابلہ کروںگا(البدایۃ والنھایۃ فی تنفیذ جیش اسامۃ بن زید)۔یہ يَعْبُدُوْنَنِيْ۠ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا کی صداقت کا کتنا بڑا ثبوت ہے۔دوسرا سوال زکوٰۃ کا تھا۔صحابہؓ نے عرض کیا کہ اگر آپ لشکر نہیں روک سکتے تو صرف اتنا کر لیجئیے کہ ان لوگوں سے عارضی صلح کرلیں اور انہیں کہہ دیں کہ ہم اس سال تم سے زکوٰۃ نہیں لیں گے۔اس دوران میں ان کا جوش ٹھنڈا ہو جائےگا اور تفرقہ کے مٹنے کی کوئی صورت پیدا ہو جائےگی۔موجودہ صورت میں جبکہ وہ جوش سے بھرے ہوئے