تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 591
وعدہ اس آیت میں اُسی خوف کے متعلق ہے جس کو وہ خوف قرار دیں اور وہ بجائے کسی اور بات کے ہمیشہ اس ایک بات سے ہی ڈرتے تھے کہ اُمت محمدیہ میں گمراہی اور ضلالت نہ آجائے سو خدا کے فضل سے امتِ محمدیہ ایسی ضلالت سے محفوظ رہی اور باوجود بڑے بڑے فتنوں کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کی وفات کے بعد اس کی ہدایت کے سامان ہوتے رہے۔اصل معجزہ یہی ہوتا ہے کہ کسی کی وفات کے بعد اس کی خواہشات پوری ہوتی رہیں۔زندگی میں اگر کسی کی خواہشیں پوری ہوں تو کہا جا سکتا ہے کہ اُس نے تدبیروں سے کام لےلیا تھا۔مگر جس کی زندگی ختم ہو جائے اور پھر بھی اس کی خواہشیں پوری ہوتی رہیں اس کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ اُس نے کسی ظاہر ی تدبیر سے کام لے لیا ہوگا۔بلکہ یہ امر اس بات کا ثبوت ہوگا کہ وہ شخص خدا تعالیٰ کا محبوب اور پیار ا تھا اور اللہ تعالیٰ کا اُس سے گہرا تعلق تھا جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کشفی حالت میں سراقہ بن مالک کے ہاتھوں میں سونے کے کڑے دیکھے۔ا ب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ صرف یہ نہیں کہ آپ نے اُس کے ہاتھ میں سونے کے کڑے دیکھے بلکہ معجز ہ یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے ایک لمبا عرصہ گذرنے کے بعد مالِ غنیمت میں سونے کے کڑے آئے اور باوجود اس کے کہ شریعت میں مردوں کو سونے کے کڑے پہننے ممنوع ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ جذبہ پیدا کر دیا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کشف کو پورا کرنے کے لئے اُسے سونے کے کڑے پہنائیں۔چنانچہ آپ نے اُسے پہنائے۔پس اس واقعہ میں معجزہ یہ ہے کہ باوجود یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر ؓ کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی کو پورا کرنے کا جذبہ پیدا کر دیا۔پھر یہ بھی معجزہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات حضرت عمرؓ نے سُن لی۔اور آپ کو اس کے پورا کرنے کا موقع مل گیا۔آخر حضرت عمر ؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات تو نہیں سنا کرتے تھے۔ممکن ہے یہ بات کسی اور کے کان میں پڑتی اور وہ آگے کسی اور کو بتانا بھول جاتا۔مگر اس معجزہ کا یہ بھی ایک حصہ ہے کہ جس شخص کے پاس سونے کے کڑے پہنچنے تھے اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کشف بھی پہنچ چکا تھا۔پھراس معجزے کا یہ بھی حصہ ہے کہ حضرت عمر ؓ کے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ تحریک پیدا کر دی کہ وہ اس صحابی کو سونے کے کڑے پہنائیں حالانکہ شریعت کے لحاظ سے مردوں کے لئے سونا پہننا ممنوع ہے مگر چونکہ اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کو پورا کرنا چاہتا تھا۔اس لئے آپ کے دل کو اس نے اس طرف مائل کر دیا کہ مردوں کے سونا نہ پہننے میں جو حکمتیں ہیں وہ بھی بیشک اچھی ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے کسی کو تھوڑی دیر کے لئے سونے کے کڑے پہنا دینا بھی کوئی بری بات نہیں ہو سکتی۔چنانچہ انہوں