تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 590

سے آپ بے ہوش ہو چکے تھے آپ کا گلا پکڑ کر گھونٹنا شروع کر دیا اور اس وقت تک آپ کو نہیں چھوڑا جب تک کہ آپ شہید نہیں ہوگئے۔(البدایة والنھایة ثم دخلت سنۃ خمس و ثلاثین فیھا مقتل عثمان صفۃ قتلہؓ )۔ان واقعات کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان واقعات سے خائف تھے۔اور جب وہ ان واقعات سے خائف ہی نہ تھے تو مِنْ بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا کے خلاف یہ واقعات کیونکر ہوگئے۔یہ لوگ تو اگر کسی امر سے خائف تھے تو اس سے کہ اسلام کی روشنی میں فرق نہ آئے۔سو باوجود ان واقعات کے وہی بات آخر قائم ہوئی جسے یہ لوگ قائم کرنا چاہتے تھے۔اور اللہ تعالیٰ نے اُن کے خوف کو امن سے بدل دیا۔یہی حال حضرت علیؓ کا ہے۔اُن کے دل کا خوف بھی صرف صداقت اور روحانیت کی اشاعت کے بارہ میں تھا۔سو اللہ تعالیٰ نے اس خوف کو امن سے بدل دیا یہ ڈر نہیں تھا کہ لوگ میرے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔چنانچہ باوجود اس کے کہ حضرت معاویہ ؓ کا لشکربعض دفعہ حضرت علی ؓ کے لشکر سے کئی کئی گنا زیادہ ہوتا تھا آپ اس کی ذرا بھی پرواہ نہیں کر تے تھے۔اور یہی فرماتے تھے کہ جو کچھ قرآن کہتا ہے وہی مانوں گا۔اس کے خلاف میں کوئی بات تسلیم نہیں کر سکتا۔اگر محض لوگوں کی مخالفت کو ہی خوفناک امر قرار دے دیا جائے تب تو ماننا پڑے گا کہ انبیاء ( نعوذ باللہ ) ہمیشہ لوگوں سے ڈرتے رہے ہیں کیونکہ جتنی مخالفت لوگ اُن کی کرتے ہیں اتنی مخالفت اور کسی کی نہیں کرتے بہر حال دنیا کی مخالفت کوئی حقیقت نہیں رکھتی اور نہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الـخَوْفِ اَمْنًا بلکہ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا فرمایا ہے۔کہ جس چیز سے وہ ڈرتے ہوںگے اُسے اللہ تعالیٰ دور کر دے گا اور اُن کے خوف کو امن سے بدل دےگا اور جیسا کہ میں بتاچکا ہوں وہ صرف اس بات سے ڈرتے تھے کہ امتِ محمدیہ میں گمراہی اور ضلالت نہ آجائے۔سو امتِ محمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے اُن کی اس توجہ اور دعا کی برکت سے بحیثیت مجموعی ضلالت سے محفوظ رکھا اور اہل السنت والجماعت کا مذہب ہی دنیا کے کثیر حصہ پر ہمیشہ غالب رہا۔میں نے اس آیت کے جو یہ معنے کئے ہیں کہ اس جگہ خوف سے مراد عام خوف نہیں بلکہ وہ خوف ہے جسے خلفاء کا دل محسوس کرتا ہو۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں عام خوف ضرور ہوتا ہے بلکہ عام خوف بھی اللہ تعالیٰ ان سے دور ہی رکھتا ہے۔سوائے اس کے کہ اس میں کوئی مصلحت ہو جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب خوف پیدا ہوا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ عام مسلمانوں کی حالت ایسی ہو چکی تھی کہ اب وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک خلافت کے انعام کے مستحق نہیں رہے تھے۔پس میرا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو عام خوفوں سے محفوظ نہیں رکھتا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اصل