تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 587 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 587

نزدیک جو بھی ڈرنے والی بات ہو وہ خلفاء کو پیش نہیں آئےگی۔بلکہ وعدہ یہ ہے کہ جس چیز سے وہ ڈریں گے اللہ تعالیٰ اُسے ضرور دُور کردےگا۔اور ان کے خوف کو امن سے بدل دےگا۔مثال کے طور پر یوں سمجھ لو کہ سانپ بظاہر ایک بڑی خوفناک چیز ہے مگر کئی لوگ ہیں جو سانپ کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لئے سانپ کا خوف کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔اسی طرح فقر ایک بڑی خوف والی چیز ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ فقر میرے لئے ذلت کا موجب نہیں بلکہ فخر کا موجب ہے۔اب اگر کسی کے ذہن میں یہ بات ہو کہ کھانے کے لئے اگر ایک وقت کی روٹی بھی نہ ملے تو یہ بڑی ذلّت کی بات ہوتی ہے تو کیا اس کے اس خیال کی وجہ سے ہم یہ مان لیں گے کہ نعوذ باللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی ذلت ہوئی ؟ جو شخص فقر کو اپنی عزت کا موجب سمجھتا ہے۔جو شخص چیتھڑوں کو قیمتی لباس سے زیادہ بہتر چیز سمجھتا ہے اور جو شخص دنیوی مال ومتاع کو نجاست کی طرح حقیر سمجھتا ہے اُس کے لئے فقرکا خوف بالکل بے معنے ہے۔پس خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الـخَوْفِ اَمْنًا بلکہ فرمایا ہے وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا کہ کوئی ایسی خوف والی بات پیدا نہیں ہوگی جس سے وہ ڈرتے ہوںگے۔اس فرق کو مدّنظر رکھ کر دیکھو تو معلوم ہوگا کہ خلفا ء پر کوئی ایسی مصیبت نہیں آئی جس سے انہوں نے خوف کھایا ہو اور اگر آئی تو اللہ تعالیٰ نے اسے امن سے بدل دیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت عمر ؓ شہید ہوئے۔مگر جب واقعات کو دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کو اس شہادت سے کوئی خوف نہیں تھا۔بلکہ وہ متواتر دعائیں کیا کرتے تھے کہ یا اللہ مجھے شہادت نصیب کر اور شہید بھی مجھے مدینہ میں کر۔پس وہ شخص جس نے اپنی ساری عمر یہ دعائیں کرتے ہوئے گذار دی ہو کہ یا اللہ مجھے مدینہ میں شہادت دے وہ اگر شہید ہو جائے تو ہم یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اس پر ایک خوفناک وقت آیا مگر وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے امن سے نہ بدلا گیا۔بیشک اگر حضرت عمر ؓ شہادت سے ڈرتے اور پھر وہ شہید ہو جاتے تو کہا جا سکتا تھا کہ اُن کے خوف کو خدا تعالیٰ نے امن سے نہ بدلا۔مگر وہ تو دعائیں کرتے رہتے تھے کہ یا اللہ ! مجھے مدینہ میں شہادت دے۔پس اُن کی شہادت سے یہ کیونکر ثابت ہوگیا کہ وہ شہادت سے ڈرتے بھی تھے اور جب وہ شہادت سے نہیں ڈرتے تھے بلکہ اس کے لئے دعائیں کرتے تھے جن کو خدا تعالیٰ نے قبول فرما لیا تو معلوم ہوا کہ اس آیت کے ماتحت اُن پر کوئی ایسا خوف نہیں آیا جو اُن کے دل نے محسوس کیا ہو او ر اس آیت میں جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں یہی ذکر ہے کہ خلفاء جس بات سے ڈرتے ہو ںگے وہ کبھی وقوع پذیر نہیں ہو سکتی اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اُن کے خوف کو امن سے بدل دےگا مگر جب وہ ایک بات سے ڈرتے ہی نہ ہوں بلکہ اپنی عزت اور