تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 586
سے جزئیا ت میں معمولی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔بعض دفعہ اُن کے مشیر بھی ان کو غلط مشورہ دے سکتے ہیں لیکن ان درمیانی روکوں سے گذر کر کامیابی انہی کو حاصل ہوگی۔اور جب تمام کڑیاں مل کر زنجیر بنے گی تو وہ صحیح ہوگی اور ایسی مضبوط ہو گی کہ کوئی طاقت اُسے توڑ نہیں سکے گی۔پانچویں علامت اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا۔یعنی جب بھی قومی طور پر اسلامی خلافت کے لئے کوئی خوف پید ا ہوگا اور لوگوں کے دلوں میں نورِ ایمان باقی ہوگا اللہ تعالیٰ اس خوف کے بعد ضرور ایسے سامان پیدا کر دےگا کہ جن سے مسلمانوں کا خوف امن سے بدل جائےگا۔چنانچہ دیکھ لو۔حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد جب افراتفری کی حالت پیدا ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ایک بڑے گروہ کو حضرت علی ؓ کے ہاتھ پر اکٹھا کر دیا۔اور جب حضرت علی ؓ کے مقابلہ میں حضرت معاویہ ؓ کھڑے ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت معاویہ ؓ کے دل میں اُس زمانہ کے مناسب حال خشیت اللہ پیدا کر دی اور جب روم کے عیسائی بادشا ہ نے مسلمانوں کا انتشار دیکھ کر اسلامی ممالک پر حملہ کرنا چاہا تو حضرت معاویہ ؓ نے اُسے کہلا بھیجا کہ یہ نہ سمجھنا کہ مسلمانوں میں اختلاف ہے اگر تم نے اسلامی ملکوں پر حملہ کیا تو سب سے پہلا جرنیل جو حضرت علی ؓ کی طرف سے تمہارے مقابلہ کے لئے نکلے گا وہ میں ہوںگا۔(البدایۃ والنھایۃ وھذہ ترجمۃ معاویۃ و ذکر شیء من ایامہ)چنانچہ رومی بادشاہ ڈر گیا اور مسلمانوں کا خوف امن سے بدل گیا۔یہ ایک جزوی ایمان تھا اگر حضرت معاویہ ؓ اُس وقت کلی طور پر ہتھیار ڈال دیتے اور حضرت علی ؓ کے تابع ہو جاتے تو مسلمانوں کا اختلاف ہمیشہ کے لئے مٹ جاتا۔اور ایسے خوش کن نتائج نکلتے کہ آج ہر مسلمان کی گردن فخر سے اونچی ہوتی مگر افسوس کہ حضرت معاویہ ؓ نے صرف وقتی اطاعت کا اعلان کیا کلی اطاعت کا اعلان نہ کیا۔بعض لوگ غلطی سے اس آیت کا یہ مفہوم سمجھتے ہیں کہ خلفاء راشدین ہر تخویف سے محفوظ رہتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ۔حضرت عثمانؓ اور حضرت علی ؓ کو چونکہ خلافت کے بعد مختلف حوادث پیش آئے اور دشمنوں نے انہیں شہید کر دیا۔اس لئے حضرت ابوبکر ؓ کے سوا اور کسی کو خلیفہ ٔ راشد تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔یہ غلطی انہیں اس لئے لگی ہے کہ انہوں نے قرآنی الفاظ پر غور نہیں کیا۔بیشک خوف کا امن سے بدل جانا بھی بڑی نعمت ہے۔لیکن اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الـخَوْفِ اَمْنًا۔کہ جو بھی خوف پیدا ہوگا اُسے امن سے بدل دیا جائےگا۔بلکہ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا فرمایا ہے کہ جو خوف اُن کے دل میں پیدا ہوگا اور جس چیز سے وہ ڈریں گے اللہ تعالیٰ اُسے دور کر دےگا۔اور اس کی جگہ امن پیدا کر دےگا۔پس وعدہ یہ نہیں کہ زید اور بکر کے