تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 55
نُکِسُوْا۔نُکِسُوْانَکَسَ سے جمع مذکر غائب مجہول کاصیغہ ہے۔اور نَکَسَ کے معنے ہوتے ہیںقَلَبَہُ عَلیٰ رَأْسِہٖ وَجَعَلَ اَسْفَلَہُ اَعْلَاہُ وَ مُقَدَّمَہٗ مُؤَخَّرَہٗ اس کو سرکےبل الٹاکردیااور نچلے حصے کو اوپر اور اوپر کے حصہ کو نیچے کردیا اسی طرح نَکَسَ رَأْسَہٗ کے معنے ہوتے ہیں۔طَأْطَاَہُ مِنْ ذُلٍّ اس نے ذلت سے سر نیچے کرلیا (اقرب) نُکِسَ الْمَرِیْضُ۔کے معنے ہوتے ہیں عَاوَدَہُ الْمَرَضُ کَاَنَّہُ قُلِبَ اِلٰی الْمَرْضِ یعنی مریض کو دوبارہ بیماری نے آلیا اور مرض کاپھراعادہ ہوگیا او ر نُکِسَ الرَّجُلُ کے معنے ہیںضَعُفَ وَعَـجَزَ۔وہ ضعیف اور عاجز ہوگیا (اقرب) پس نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْکے معنے ہوئے (۱) اپنی پہلی حالت یعنی شرارت کی طرف دوبارہ لوٹ آئے (۲) ان کے سرذلت سے نیچے گرائے گئے (۳) جیساکہ اوپر حل لغات سے ظاہر ہے کہ اَلنَّکْسُ کے اصلی معنے یہ ہیںکہ کسی چیز کو اس طرح الٹاناکہ اس کا اوپر کاحصہ نیچے اور نیچے کاحصہ اوپر ہوجائے۔علامہ آلوسی مصنف روح المعانی لکھتے ہیںکہ ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ میں نَکَسَ کالفظ ان معنوں میں استعمال ہونادرست ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مخالفوں نے شرمندگی سے اپنے سرنیچے ڈال دیئے اور وہ حیرت میںڈوب گئے۔تفسیر۔فرماتا ہے موسیٰ سے پہلے ابراہیم کو بھی ہم نے اس کے زمانہ کے مطابق ہدایت بخشی تھی اور ہم اس زمانہ کے حالات کو خوب جانتے تھے اس کا چچااور اس کی قوم مشرک تھے اس جگہ أَبٌ بمعنے چچا استعمال ہوا ہے۔کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد فوت ہوچکے تھے اس نے اپنے چچا اور اپنی قوم سے کہاکہ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِيْلُ الَّتِيْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ یہ کیا مجسمے ہیںجن کے آگے تم رات دن بیٹھے رہتے ہو انہوں نے کہاہم نے تو اپنے باپ دادوںکوبھی دیکھاہے کہ وہ ان کی عبادت کیا کرتے تھے۔مَا هٰذِهِ التَّمَاثِيْلُکے الفاظ ان بتوں کی تحقیر کے لئے استعمال کئے گئے ہیں ورنہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خوب جانتے تھے کہ وہ کیا چیز ہیں۔درحقیقت طرز کلام کی واقفیت بھی کلام کے سمجھنے میںخاص طور پر مدد دیتی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عادت تھی کہ وہ عام طور پرتعریضاًکلام کیا کر تے تھے بَلْ فَعَلَهٗ كَبِيْرُهُمْ هٰذَا کا کلام بھی اسی طرز کاہے اور مَا هٰذِهِ التَّمَاثِيْلُ بھی اسی رنگ میںکہاگیا ہے کہ یہ کیا چیز ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔مراد یہ ہے کہ کیا ایسی ذلیل اور حقیر چیزوں کی تم پر ستش کرتے ہو۔اس جگہ رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک عجیب مماثلت ثابت ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ بھی آپ کی پیدائش سے پہلے فوت ہوچکے تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام