تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 583

گیاہے وہ خلافت ِ ملوکیت نہیں۔پس جب خدا نے یہ فرمایا کہ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ کہ ہم اُن خلفاء پر ویسے ہی انعامات نازل کریں گے جیسے ہم نے پہلے خلفاء پر انعامات نازل کئے تو اس سے مراد یہی ہے کہ جیسے پہلے انبیا ء کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوتی رہی ہے اُسی طرح اُن کی مدد ہوگی۔پس اس آیت میں خلافتِ نبوت سے مشابہت مراد ہے نہ کہ خلافتِ ملوکیت سے۔تیسری بات اس آیت سے یہ نکلتی ہے کہ یہ وعدہ امت سے اس وقت تک کے لئے ہے جب تک کہ امت مومن اور عمل صالح کرنے والی رہے۔جب وہ مومن اور عمل صالح کرنے والی نہیں رہے گی تو اللہ تعالیٰ بھی اپنے اس وعدہ کو واپس لے لےگا۔گویا نبوت اور خلافت میں یہ عظیم الشان فرق بتا یا کہ نبوت تو اس وقت آتی ہے جب دنیا خرابی اور فساد سے بھر جاتی ہے جیسے فرمایا ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ( الروم :۴۲) یعنی جب بّر اور بحر میں فساد واقع ہو جاتا ہے۔لوگ خدا تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں الٰہی احکام سے اپنا منہ موڑ لیتے ہیں۔ضلالت اور گمراہی میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور تاریکی زمین کے چپہ چپہ کا احاطہ کر لیتی ہے تو اس وقت لوگوں کی اصلاح کے لئے خدا تعالیٰ کسی نبی کو بھیجتا ہے جو پھر آسمان سے نور ِایمان کو واپس ملاتا اور ان کو سچے دین پر قائم کرتا ہے لیکن خلافت اس وقت آتی ہے جب قوم میں اکثریت مومنوں اور عمل صالح کرنے والوں کی ہوتی ہے اور خلیفہ لوگوں کو عقائد میں مضبوط کرنے کے لئے نہیںآتا بلکہ تنظیم کو مکمل کرنے کے لئے آتا ہے۔گویا نبوت تو ایمان اور عمل صالح کے مٹ جانے پر آتی ہے۔اور خلافت اس وقت آتی ہے جب قریباً تمام کے تما م لوگ ایمان اور عمل صالح پر قائم ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خلافت اسی وقت شروع ہوتی ہے جب نبوت ختم ہوتی ہے کیونکہ نبوت کے ذریعہ ایمان اور عمل صالح قائم ہوچکا ہوتاہے۔اور چونکہ اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو ایمان اور عمل صالح پر قائم ہوتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ اپنی خلافت کی نعمت عطا فرما دیتا ہے اور درمیانی زمانہ جب کہ نہ تو دنیا نیکو کاروں سے خالی ہو اور نہ بدی سے پُر ہو دونوں سے محروم رہتا ہے کیونکہ نہ تو بیماری شدید ہوتی ہے کہ نبی آئے اور نہ تندرستی کا مل ہوتی ہے کہ اُن سے کام لینے والا خلیفہ آئے۔پس اس حکم سے معلو م ہوتا ہے کہ خلافت کا فقدان کسی خلیفہ کے نقص کی وجہ سے نہیں بلکہ جماعت کے نقص کی وجہ سے ہوتا ہے اور خلافت کا مٹنا خلیفہ کے گنہگار ہونے کی دلیل نہیں بلکہ امت کے گنہگار ہونے کی دلیل ہوتا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہ صریح وعدہ ہے کہ وہ اس وقت تک خلیفہ بناتا چلا جائےگا جب تک جماعت میں مومنوں اور عمل صالح کرنے والوں کی اکثریت رہے گی۔جب اس میں فرق پڑ جائےگااور اکثریت مومنوں اور عمل صالح