تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 582

یہ استنباط ہوا کہ پہلی خلافتوں والی برکات مسلمانوںکو بھی ملیں گی اور انبیاء سابقین سے اللہ تعالیٰ نے جو کچھ سلوک کیا وہی سلوک وہ امت محمدیہ کے خلفاء کے ساتھ بھی کرے گا۔اگر کوئی کہے کہ پہلے تو خلافت ِ ملوکیت کا بھی ذکر آتا ہے پھر خلافتِ ملوکیت کا ذکر چھوڑ کر صرف خلافتِ نبوت کے ساتھ اس کی مشابہت کو کیوں مخصوص کیا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک مسلمانوں کے ساتھ بادشاہتوں کا بھی وعدہ ہے مگر اس جگہ بادشاہت کا ذکر نہیں بلکہ صرف مذہبی نعمتوں کا ذکر ہے۔چنانچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہےوَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ کہ خدا تعالیٰ اپنے قائم کردہ خلفاء کے دین کو دنیا میں قائم کر کے رہےگا۔اب یہ اصول دنیا کے بادشاہوں کے متعلق نہیں اور نہ اُن کے دین کو خدا تعالیٰ نے کبھی دنیا میں قائم کیا ہے۔بلکہ یہ اصول روحانی خلفاء کے متعلق ہی ہے۔پس یہ آیت ظاہر کر رہی ہے کہ اس جگہ جس خلافت سے مشابہت دی گئی ہے وہ خلافتِ نبوت ہے نہ کہ خلافتِ ملوکیت۔اسی طرح فرماتا ہے۔وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا کہ خدا اُن کے خوف کو امن سے بدل دیا کرتا ہے۔یہ علامت بھی دنیوی بادشاہوں پر کسی صورت میں بھی چسپاں نہیں ہوسکتی کیونکہ د نیوی بادشاہ اگرآج تاج و تخت کے مالک ہوتے ہیں توکل تخت سے علیٰحدہ ہو کر بھیک مانگتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن کے خوف کو امن سے بدل دینے کا کوئی وعدہ نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات جب کوئی سخت خطرہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کے مقابلہ کی ہمت تک کھو بیٹھتے ہیں۔پھر فرماتا ہے يَعْبُدُوْنَنِيْ۠ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا کہ وہ خلفاء میری عبادت کریںگے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریںگے گویا وہ خالص موحد اور شرک کے شدید ترین دشمن ہوںگے۔مگر دنیا کے بادشاہ تو شرک بھی کر لیتے ہیں حتّٰی کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ ان سے کبھی کفر بواح بھی صادر ہو جائے۔(بخاری کتاب الفتن باب قول النبی ؐسترون بعدی امورًا تنکرونھا)پس وہ اس آیت کے مصداق کس طرح ہو سکتے ہیں۔چوتھی دلیل جس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ ان خلفاء سے مراد دنیوی بادشاہ ہر گز نہیں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ یعنی جو لوگ ان خلفا ء کا انکار کریں گے وہ فاسق ہو جائیںگے اب بتائو کہ کیا جو شخص کفرِ بواح کا بھی مرتکب ہو سکتا ہوآیا اس کی اطاعت سے خروج فسق ہو سکتا ہے ؟ یقیناً ایسے بادشاہوں کی اطاعت سے انکار کرنا انسان کو فاسق نہیں بنا سکتا۔فسق کا فتویٰ انسان پر اسی صورت میں لگ سکتا ہے جب وہ روحانی خلفاء کی اطاعت سے انکار کرے۔غرض یہ چاروں دلائل جن کا اس آیت میں ذکر ہے اس امر کا ثبوت ہیں کہ اس آیت میں جس خلافت کا ذکر کیا