تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 578
جن سے سچے اور جھوٹے میں فرق کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہیں۔اوّل۔خلیفہ خدا بناتا ہے یعنی اس کے بنانے میں انسانی ہاتھ نہیں ہوتا نہ وہ خود خواہش کر تا ہے اور نہ کسی منصوبہ کے ذریعہ وہ خلیفہ ہوتا ہے۔بلکہ بعض دفعہ تو ایسے حالات میں وہ خلیفہ بنتا ہے جبکہ اس کا خلیفہ ہونا بظاہر ناممکن سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ یہ الفاظ کہ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ خو دظاہر کرتے ہیں کہ خلیفہ خداہی بناتا ہے کیونکہ جو وعدہ کرتا ہے وہی دیتا بھی ہے۔نہ یہ کہ وعدہ تو وہ کرے اور اُسے پورا کوئی اور کرے۔پس اس آیت میں پہلی بات یہ بتائی گئی ہے کہ سچے خلفاء کی آمد خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگی کوئی شخص خلافت کی خواہش کر کے خلیفہ نہیں بن سکتا اور نہ کسی منصوبہ کے ماتحت خلیفہ بن سکتا ہے۔خلیفہ وہی ہوگا جسے خدا بنانا چاہے گا بلکہ بسا اوقات وہ ایسے حالات میں خلیفہ ہوگا جبکہ دنیا اُس کے خلیفہ ہونے کو ناممکن خیال کرتی ہوگی۔دوسری علامت اللہ تعالیٰ نے سچے خلیفہ کی یہ بتائی ہے کہ وہ اُس کی مدد انبیاء کے مشابہ کرتا ہے کیونکہ فرماتا ہے کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ کہ یہ خلفاء ہماری نصرت کے ایسے ہی مستحق ہوںگے جیسے پہلے خلفاء اور جب پہلی خلافتوں کو دیکھا جاتا ہے تو وہ تین قسم کی نظر آتی ہیں۔اول خلافت نبوت ،جیسے آدم علیہ السلام کی خلافت تھی۔جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃٌ (البقرۃ:۳۱)میں زمین میں اپنا ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔اب آدم علیہ السلام کا انتخاب نہیں کیا گیا تھا۔اور نہ وہ دنیوی بادشاہ تھے۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے ایک وعدہ کیا اور انہیں اپنی طرف سے زمین میں آپ کھڑا کیا۔اور جنہوں نے ان کا انکار کیا انہیں سزا دی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آدم ؑ ان معنوں میں بھی خلیفہ تھے کہ ایک پہلی نسل کے تباہ ہونے پر انہوں نے اور اُن کی نسل نے پہلی قوم کی جگہ لے لی۔اور ان معنوں میں بھی خلیفہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے ذریعہ ایک بڑی نسل جاری کی۔لیکن سب سے بڑی اہمیت جو انہیں حاصل تھی وہ نبوت اور ماموریت ہی کی تھی جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔انہی معنوں میں حضرت دائود علیہ السلام کو بھی خلیفہ کہا گیا ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا نَسُوْا يَوْمَ الْحِسَابِ ( ص:۲۷)یعنی اے دائود ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے ( حضرت دائود علیہ السلام چونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اس لئے معلوم ہو ا کہ یہاں خلافت سے مراد خلافتِ نبوت ہی ہے ) پس تُو لوگوں کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کر اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کر ایسا نہ ہو کہ وہ تجھے سیدھے راستہ سے منحرف کردیں۔یقیناً وہ لوگ جو گمراہ ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت عذاب ہو گا۔اس لئے ایسے لوگوں