تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 576

حصوں سے خبریں آتی ہوں۔اور وہ سمجھتا ہو کہ حالات کیا صورت اختیار کر رہے ہیں۔صرف اخبارات سے اس قسم کے حالات کا علم نہیں ہو سکتا کیونکہ اخبارات میں بہت کچھ جھوٹی خبریں درج ہوتی ہیں اس کے علاوہ ان میں واقعات کو پورے طور پر بیان کرنےکا التزام نہیں ہوتا۔لیکن ہمارے مبلغ چونکہ دنیا کے اکثر حصوں میں موجود ہیں اور پھر جماعت کے افراد بھی دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں اس لئے اُن کے ذریعہ مجھے ہمیشہ سچی خبریں ملتی رہتی ہیں۔اور میں اُن سے فائدہ اٹھا کر جماعت کی صحیح رہنمائی کرتا رہتا ہوں۔پس درحقیقت اقامۃ الصلوٰۃ بھی بغیر خلیفہ کے نہیں ہو سکتی۔اسی طرح اطاعتِ رسول بھی جس کا اس آیت میں ذکر ہے خلیفہ کے بغیر نہیں ہو سکتی کیونکہ رسول کی اطاعت کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ سب کو وحدت کے ایک رشتہ میں پرو دیا جائے۔یُوں تو صحابہ ؓ بھی نمازیں پڑھتے تھے اور آجکل کے مسلمان بھی نمازیں پڑھتے ہیں۔صحابہ ؓ بھی حج کرتے تھے اور آجکل کے مسلمان بھی حج کرتے ہیں۔پھر صحابہؓ اور آج کل کے مسلمانوں میں فرق کیا ہے؟ یہی ہے کہ صحابہ ؓ میں ایک نظام کاتابع ہونے کی وجہ سے اطاعت کی رُوح حدِ کمال کو پہنچی ہوئی تھی چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جب بھی کوئی حکم دیتے صحابہ ؓ اُسی وقت اُس پر عمل کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے۔لیکن یہ اطاعت کی رُوح آج کل کے مسلمانوں میں نہیں۔مسلمان نمازیں بھی پڑھیں گے۔روزے بھی رکھیں گے حج بھی کریں گے مگر ان کے اندر اطاعت کا مادہ نہیں ہوگا کیونکہ اطاعت کا مادہ نظام کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔پس جب بھی خلافت ہوگی اطاعتِ رسول بھی ہوگی۔کیونکہ اطاعت رسول یہ نہیں کہ نمازیں پڑھو یا روزے رکھو یا حج کرو۔یہ تو خدا کے احکام کی اطاعت ہے۔اطاعت رسول یہ ہے کہ جب وہ کہے کہ اب نمازوں پر زور دینے کا وقت ہے تو سب لوگ نمازوں پر زور دینا شروع کر دیں اور جب وہ کہے کہ اب زکوٰۃ اور چند وں کی ضرورت ہے تو وہ زکوٰۃ اور چندوں پر زور دینا شروع کر دیں۔اور جب وہ کہے کہ اب جانی قربانی کی ضرورت ہے یا وطن کو قربان کرنے ضرورت ہے تو وہ جانیں اور اپنے وطن قربان کرنے کے لئے کھڑے ہو جائیں۔غرض یہ تین باتیں ایسی ہیں جو خلافت کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔اگر خلافت نہ ہوگی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری نمازیں بھی جاتی رہیں گی۔تمہاری زکوٰۃ بھی جاتی رہے گی۔اور تمہارے دل سے اطاعت ِ رسول کا مادہ بھی جاتا رہے گا۔ہماری جماعت کو چونکہ ایک نظام کے ماتحت رہنے کی عادت ہے اور اس کے افراد اطاعت کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہیں اس لئے اگر ہماری جماعت کے افراد کو آج اٹھا کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں رکھ دیا جائے تو وہ اُسی طرح اطاعت کرنے لگ جائیں گے جس طرح صحابہ ؓ اطاعت کیا کرتے تھے لیکن اگر کسی غیر احمد ی کو اپنی بصیرت کی آنکھ سے تم اس زمانہ میں لے جائو تو تمہیں قدم قدم پر وہ ٹھو کر یں کھاتا ہوا