تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 573 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 573

خلافت کے استحقاق کے مطابق عمل کریں گے اور ایسے اعمال بجا لائیں گے جو انہیں خلافت کا مستحق بنا دیں اُن سے اللہ تعالیٰ کا یہ وعد ہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں اُسی طرح خلیفہ بنائےگا جس طرح اُن سے پہلے لوگوں کو اس نے خلیفہ بنایا اور اُن کی خاطر ان کے دین کو جو اس نے اُن کے لئے پسند کیا ہے دنیا میں قائم کرے گا اور جب بھی ان پر خوف آئے گا اس کو امن سے بدل دےگا۔اور ایسا ہوگا کہ وہ میری عبادت کرتے رہیں گے اور کسی کو میرا شریک قرار نہیں دیں گے لیکن جو لوگ مسئلہ خلافت پر ایمان لانا چھوڑ دیں گے وہ اس انعام سے متمتع نہیں ہوںگے بلکہ اطاعت سے خارج سمجھے جائیں گے۔اس آیت میں مسلمانوں کی قسمت کا آخری فیصلہ کیا گیا ہے اور ان سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ خلافت کے قائل رہے اور اس غرض کے لئے مناسب کوشش اور جدوجہد بھی کرتے رہے تو جس طرح پہلی قوموں میں خدا تعالیٰ نے خلافت قائم کی ہے اسی طرح ان کے اندر بھی خدا تعالیٰ خلافت کو قائم کر دے گا اور خلافت کے ذریعہ سے اُن کو اُن کے دین پر قائم فرمائے گا جو خدا نے اُن کے لئے پسند کیا ہے اور اس دین کی جڑیں مضبوط کر دےگا اور خوف کے بعد امن کی حالت اُن پر لے آئےگا جس کے نتیجہ میں وہ خدا ئے واحد کے پرستا ر بنے رہیں گے اورشرک نہیں کریں گے۔مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک وعدہ ہے پیشگوئی نہیں۔اگر مسلمان ایمان بالخلافت پر قائم نہیں رہیں گے اور اُن اعمال کو ترک کردیں گے جو خلافت کے قیام کے لئے ضروری ہیں تو وہ اس انعام کے مستحق نہیں رہیں گے۔اور خدا تعالیٰ پروہ یہ الزام نہیں دے سکیں گے کہ اُس نے وعدہ پورا نہیں کیا۔پھر خلافت کے ذکر کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۔یعنی جب خلافت کا نظام جاری کیا جائے تو اس وقت تمہارا فرض ہے کہ تم نمازیں قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت کرو۔گویا خلفاء کے ساتھ دین کی تمکین کر کے وہ اطاعتِ رسول کرنے والے ہی قرار پائیں گے۔یہ وہی نکتہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ مَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِيْ (صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیة و تحریمھا فی المعصیة)۔یعنی جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی۔اُس نے میری نافرمانی کی پس وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ فرما کر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اُس