تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 571
ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی عملاً اطاعت کی جائے اور صرف زبانی دعووں پراپنے ایمان کا انحصار نہ سمجھاجائے۔لیکن اگر اس نصیحت کے باوجود یہ لوگ پیٹھ پھیر جائیں تو اس رسول پر اس کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔اس پر صرف اس پیغام کی ذمہ واری ہے جس کا پہنچانا اس کے سپر د کیا گیا ہے اور تم پر ان احکام کے بجا لانے کی ذمہ داری ہے جو تمہارے ذمہ لگائے گئے ہیں۔ہاں ہم اتنی بات تمہیں ضرور بتا دیتے ہیں کہ اگر تم اس بارہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو گے تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ تم کامیاب ہو جائو گے اور فتح پائو گے۔مگر ہم پھر تمہیں کہتے ہیں کہ رسول کا کام صرف دنیا تک خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا دینا ہے۔ورنہ عملی قدم اٹھانا تمہارا کام ہے۔جدوجہد کرنا تمہارا کا م ہے۔قربانیاں کرنا تمہارا کام ہے۔تم صرف اس بات پر خوش نہ ہو جائو کہ خدا کا ایک رسول تم میں آیا اور تم نے اُس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے اور اُس کے مطابق وہ تم سے سلوک کرے گا اگر تم مونہہ سے تو یہ کہتے ہو کہ ہم رسول کے ساتھ ہر میدان میں دشمن سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن وقت آنے پر تمہارے قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں اور جان دینا تمہیں دو بھر معلوم ہوتا ہے تو تم سمجھ لو کہ تمہارا ایمان خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ایک رائی کے برابر بھی قیمت نہیں رکھتا۔موسیٰ ؑ کے ساتھیوں کی مثال تمہارے سامنے ہے۔انہوں نے بھی موسیٰ ؑ کی اطاعت کا اقرار کیا تھا مگر جب موسیٰ ؑ نے کہا کہ اٹھو اور کنعان کی سرزمین پر حملہ کردو۔تو انہوں نے کہہ دیا کہ اے موسیٰ ؑ تو اور تیرا رب دونوں جا کر لڑتے رہو۔ہم تو یہیں بیٹھے ہیں(المائدۃ:۲۵)۔مگر اس کا کیا نتیجہ نکلا۔چالیس سال تک وہ قوم صحرائوں میں بھٹکتی پھری اور کنعان میں داخل نہ ہو سکی۔اور اگر داخل ہوئی تو اس وقت جب وہ قربانیوں کے لئے تیار ہو گئی۔پس اصل چیز خدا اور اس کے رسول کی اطاعت ہے اور تمام کامیابیاں اسی رُوح کے ساتھ وابستہ ہیں جس قوم میں اطاعت کی رُوح ہوتی ہے و ہ دوسروں کے مقابلہ میں کمزور ہوتے ہوئے بھی کامیاب ہوجاتی ہے۔اور جس قوم میں سے اطاعت کی رُوح نکل جاتی ہے وہ زیادہ ہوتے ہوئے بھی ناکام رہتی ہے۔