تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 568
کو بھی لیا ہے جو حکومت اور قانون سے تعلق رکھتے ہیں۔چنانچہ وہ صرف یہی نہیں کہتا کہ نمازیں پڑھو۔روزے رکھو۔حج کرو۔زکوٰۃ دو بلکہ وہ ایسے احکام بھی دیتا ہے جن کا حکومت اور قانون سے تعلق ہوتا ہے۔مثلاً وہ میاں بیوی کے تعلقات پر بحث کرتا ہے۔وہ بتا تا ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان اگر جھگڑا ہو جائے تو کیا کیا جائے اور اُن کی باہمی مصالحت کے لئے کیا تدابیر عمل میں لائی جائیں اور اگر کبھی مرد کو اس بات کی ضرورت پیش آئے کہ وہ عورت کو بدنی سزا دے تو وہ کتنی اور کیسی ہو۔اسی طرح وہ لین دین کے قواعد پر بھی بحث کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ قرض کے متعلق کتنے گواہ تسلیم کئے جا سکتے ہیں۔قرضہ کی کون سی صورتیں جائز ہیں اور کون سی ناجائز۔و ہ تجارت اور فنائینس کے اصول بھی بیان کرتا ہے جن پر قضاء کی بنیاد ہے۔چنانچہ وہ بتاتا ہے کہ کیسے گواہ ہونے چاہئیں کتنے ہونے چاہئیں۔ان کی گواہی میں کن کن امور کو ملحوظ رکھنا چاہیے اسی طرح وہ قضاء کے متعلق کئی قسم کے احکام دیتا ہے اور بتا تا ہے کہ قاضیوں کو کس طرح فیصلہ کرنا چاہیے پھر ان مختلف انسانی افعال کی وہ جسمانی سزائیں بھی تجویز کرتا ہے جو عام طور پر قوم کے سپرد ہوتی ہیں مثلاً قتل کی کیا سزا ہے یا چوری کی کیا سزا ہے۔اسی طرح وہ وراثت کے قوانین بھی بیان کرتا ہے۔حکومت کو ٹیکس کا جو حق حاصل ہے اس پر بھی پابندیاں لگا تا ہے اور ٹیکسوں کی تفصیل بیان کرتا ہے۔حکومت کو ان ٹیکسوں کے خرچ کرنے کے متعلق جو اختیارات حاصل ہیں اُن کو بھی بیان کرتا ہے۔فوجوں کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے۔معاہدات کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے۔وہ بتا تا ہے کہ د وقومیں جب آپس میں کوئی معاہدہ کرنا چاہیں تو کن اصول پر کریں اسی طرح بین الاقوامی تعلقات کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے۔مزدور اور ملازم رکھنے والوں کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے۔سڑکوں وغیرہ کے متعلق قواعد بیان کرتا ہے۔چنانچہ اسی ہدایت کے ماتحت جب بغداد بنایا گیا تو بڑی سڑکیں ساٹھ فٹ کی رکھی گئیں اور چھوٹی سڑکیں تیس فٹ کی رکھی گئیں۔غرض وہ تمام امور جو حکومت سے تعلق رکھتے ہیں اُن سب کو اسلام بیان کرتا ہے۔اور ساتھ ہی وہ تفقہ کاقانون بھی بیان کرتا ہے جس سے قوانین بنانے والوں کی راہنمائی ہو جاتی ہے۔پس جو شخص اسلام کو مانتا ہے اور اس میں حکومت کے متعلق تمام احکام کو تفصیل سے بیان کیا ہوا دیکھتا ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مذہب کو ان امور سے کیا واسطہ بلکہ اُسے تسلیم کرنا پڑےگا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ افعال جو حکومت سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی ویسے ہی قابلِ تقلید ہیں جیسے نماز اور روزہ وغیرہ کے متعلق احکام۔کیونکہ جس خدا نے یہ کہا ہے کہ نماز پڑھو۔جس خدا نے یہ کہا ہے کہ روزے رکھو۔جس خدا نے یہ کہا ہے کہ حج کرو۔جس خدا نے یہ کہا ہے کہ زکوٰۃ دو اُسی خدا نے امور سیاست اور تنظیم ملکی کے متعلق بھی احکام بیان کئے ہیں۔اور فرمایا ہے