تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 567
ورثہ کے ساتھ تعلق ہو۔اسی قسم کے مذاہب میں سے ایک مسیحی مذہب ہے اور اس مذہب میں جو شریعت کو لعنت قرار دینے پر زور دیا گیا ہے۔اس کی وجہ بھی زیادہ تر یہی ہے کہ وہ افراد کے اعمال کو مذہب کی پابندیوں سے الگ رکھنا چاہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں مذہب کا کا م صرف یہ ہے کہ وہ کہے تم عبادت کرو۔تم روزے رکھو تم غریبوں کی خبر گیری کرو۔تم عیسیٰ کو خدا سمجھو اسے اس بات سے کیا واسطہ ہے کہ قتل اور فساد اور چوریوں اور ڈاکوں کے متعلق کیا احکام ہیں۔یا یہ کہ قومیں آپس میں کس طرح معاہدات کریں۔یا اقتصاد کو کس طرح حدود میں رکھا جا سکتا ہے۔ان کے نزدیک شریعت کا ان امور سے کوئی واسطہ نہیں۔چنانچہ اگر لڑکوں اور لڑکیوں کو ورثہ میں حصہ دینے کا سوال ہو تو وہ کہہ دیں گے کہ اس میں شریعت کا کیا دخل ہے۔یہ ہمارے ملک کی پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ جس امر میں قوم کا فائدہ دیکھے اسے بطور قانون نافذ کر دے۔اسی طرح وہ کہتے ہیں اگر ہم فیصلہ کر لیں کہ ہم سود لیں گے چاہے روپیہ کی صورت میں لیں اور چاہے جنس کی صورت میں تو مذہب کو کیا حق ہے کہ وہ یہ کہے کہ روپیہ کے بدلہ میں سودی روپیہ لینا ناجائز ہے۔غرض وہ مذہب کے ان احکام سے جو نظام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں شدید نفرت کرتے ہیں۔اسی لئے انہوں نے شریعت کو لعنت قرار دے رکھا ہے۔اس کے بالمقابل بعض دوسرے مذاہب ایسے ہیں جنہوں نے مذہب کے دائرہ کو وسیع کیا ہے اور انسانی اعمال اور باہمی تعلقات اور نظامِ حکومت وغیرہ کے متعلق بھی قواعد بنائے ہیں۔اور جو لوگ ایسے مذاہب کو مانتے ہیں لازمًا انہیں یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ حکومت کے معاملات میں بھی مذہب کو دخل اندازی کا حق حاصل ہے اور نیز یہ کہ اِن احکام کی پابندی افراد اور جماعتوں پر اسی طرح واجب ہے جس طرح عقائد اور انفرادی احکام۔مثلاً نماز اور روزہ وغیر ہ میں واجب ہے۔اس کی مثال میں یہودی مذہب کو پیش کیا جا سکتا ہے۔اگر کوئی شخص موسوی شریعت کو پڑھے تو اُسے جابجا یہ لکھا ہوا نظر آئےگا کہ اگر کوئی قتل کرے تو اُسے یہ سزا دی جائے۔چوری کرے تو یہ سزا دی جائے۔جنگ ہو تو ان قواعد کو ملحوظ رکھا جائے۔قربانی کرنی ہو تو ان اصول کے ماتحت کی جائے اسی طرح لین دین اور تجارت وغیرہ معاملات کے متعلق وہ ہدایات دیتا ہے۔غرض وہ معاملات جو حکومت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں یہودی مذہب اُن میں دخل دیتا ہے۔اَب ہمیں دیکھنا چاہیے کہ اسلام کس قسم کے مذاہب سے مشابہت رکھتا ہے۔آیا اول الذکر قسم سے یا دوسری قسم کے مذاہب سے اس غرض کے لئے جب قرآن کریم اور احادیث نبویہ کو دیکھا جاتا ہے تو اُن پر ایک سر سری نظر ڈالنے سے ہی یہ امر ثابت ہو جاتا ہے کہ اسلام پہلی قسم کے مذاہب میں شامل نہیں بلکہ دوسری قسم کے مذاہب میں شامل ہے اُس نے صرف بعض عقائد اور انفرادی اعمال بتانے پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ اُس نے ان احکام