تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 564

تھے اور کہنے لگے حضور بڑے فکر کی بات ہے۔آریوں نے مجسٹریٹ سے کچھ نہ کچھ سزا دینے کا وعدہ لے لیا ہے اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام لیٹے ہوئے تھے آپ فوراً اُٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا۔خواجہ صاحب خدا کے شیر پر کون ہاتھ ڈال سکتا ہے ؟ میں خدا کا شیر ہوں وہ مجھ پر ہاتھ ڈال کر تو دیکھے۔چنانچہ ایسا ہی ہو ا۔دو مجسٹریٹ تھے جن کی عدالت میں یکے بعد دیگر ے یہ مقدمہ پیش ہوا اور ان دونوں کو بڑی سخت سزا ملی ان میں سے ایک تو معطل ہو ااور ایک کا بیٹا دریا میں ڈوب کر مر گیا اور وہ اس غم میں نیم پاگل ہو گیا۔اس پر اس واقعہ کا اتنا اثر تھا کہ ایک دفعہ میں دہلی جا رہا تھا کہ وہ لدھیانہ کے سٹیشن پر مجھے ملا اور بڑے الحاح سے کہنے لگا کہ دُعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے صبر کی توفیق دے مجھ سے بڑی بڑی غلطیاں ہوئی ہیں۔اور میری حالت ایسی ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ میں کہیں پاگل نہ ہو جائوں۔اب میرا ایک اور بیٹا ہے دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اسے اور مجھے دونوں کو تباہی سے بچائے۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ بات پوری ہوئی کہ خدا تعالیٰ کے شیر پر کون ہاتھ ڈال سکتا ہے اور آریوں کو اُن کے مقصد میں ناکامی ہوئی۔یہ آیات مبینات ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے انبیاء کی سچائی ظاہر کرتا رہتا ہے۔مگر فرماتا ہے۔وَ اللّٰهُ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۔آیا ت مبینات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دنیا کو اپنا چہرہ تو دکھا دیتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ صراط مستقیم اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر میسر نہیں آسکتا اس لئے انسان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجز انہ طور پر دعائیں کرتا رہے کہ وہ خود اس کی صراطِ مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائے اور پھر اُسے صراط مستقیم پر ہمیشہ کے لئے قائم بھی رکھے کیونکہ سورۂ فاتحہ کی دعا نے بتا دیا ہے کہ صراط مستقیم حاصل ہو جانے کے بعد بھی انسان کے لئے گِرنے اور مغضوب یا ضال ہونےکا خطرہ ہوتا ہے اور اس خطرہ سے نجات کی طرف یہی صورت ہوتی ہے کہ انسان ہر وقت آستانۂ الوہیت پر گرا رہے اور دُعائوں سے اس کی مدد حاصل کرتا رہے۔وَ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلّٰى اور وہ کہتے ہیں ہم اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لائے اور ہم نے اطاعت کا وعدہ کر لیا پھراُن میں سے فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓىِٕكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۴۸ ایک گروہ اس کے بعد (اپنے اقرار سے) پھر جاتا ہے۔اور ایسے لوگ ہر گز مومن نہیں۔اور جب اُن کو اللہ اور