تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 563
تھی۔فتح مکہ کے بعد اُسی کے قتل کا فتویٰ جاری کیا گیا لیکن قبل اس کے کہ اُسے گرفتا ر کیا جاتا وہ عورتوں میں چُھپ کر بیعت میں شامل ہو گئی۔کیا اُس کے متعلق اس وقت کوئی انسان یہ خیال بھی کرسکتا تھا کہ کسی وقت یہ عورت اسلام میں داخل ہوگی اور پھر اسلام کے لئے شاندار قربانیاں کرنے والی ہوگی۔لیکن وہی ہندہ جو اسلام کی شدید دشمن تھی اسلام لانے کے بعد اسلامی فتوحات میں حصہ دار بن گئی۔غرض تاریخِ اسلام کا ایک ایک واقعہ پڑھا جائے تو یُوں محسوس ہوتا ہے کہ وہلَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ کے مطابق ایک ایسا نشان ہے جو حقیقت ِ حال کو کھو ل کر سامنے رکھ دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ اے مسلمانو! تم پر اسلام میں داخل ہونا کوئی بوجھ نہیں کیونکہ دوسرے لوگوں کے لئے اُن کے مذہب غیب نہیں۔لیکن تمہارا مذہب وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی غیبی طاقتوں کو ظاہر کر دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی اور مذہب نہیں ٹھہر سکتا۔پھر دیکھ لو یہ نمونہ آج تک چلا آرہا ہے ! اسلام میں ہر زمانہ میں ایسے لوگ پیدا ہو ئے جولَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ کے ذریعہ اسلام کی روشنی کو ظاہر کرتے رہے۔چنانچہ ابتدائی زمانہ میں حضرت جنید بغدادی ؒ ہوئے۔حضرت سیّد عبدالقادر صاحب جیلانی ؒ ہوئے۔شبلی ؒ ہوئے۔ابراہیم ادھم ؒ ہوئے۔ابن تیمیہ ؒ ہوئے۔ابن قیم ؒ ہوئے۔امام غزالی ؒ ہوئے۔حضرت محی الدین صاحب ابن عربی ؒ ہوئے۔اور ان کے علاوہ ہزاروں اور بزرگ ہوئے۔پھر آخری زمانہ میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ؒ محدث دہلوی ہوئے۔خواجہ باقی باللہ ؒ ہوئے۔خواجہ معین الدین صاحب چشتی ؒ ہوئے۔شیخ شہاب الدین صاحب سہروردی ؒ ہوئے۔خواجہ بہائو الدین صاحب نقشبندی ؒ ہوئے۔نظام الدین صاحب اولیا ؒ ہوئے۔خواجہ قطب الدین صاحب بختیار کاکی ؒ ہوئے۔فرید الدین صاحب شکر گنج ؒ ہوئے۔حضرت سید احمد صاحب ؒبریلوی ہوئے۔حضرت شیخ احمد صاحب ؒ سرہندی مجدد الف ثانی ہوئے۔یہ سب لوگ خدا تعالیٰ کا قرب پا کر اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ کا مقام حاصل کر گئے اور ان میں سے ہر شخص کو دیکھ کر لوگ اپنا ایمان تازہ کرتے تھے۔پھر جب اُن کا نور دھندلا ہوا تو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہمارے اندر پیدا کیا اور آ پ کا وجو د ہمارے لئے آیات مبینات بن گیا۔جو شخص بھی آپ کے پاس بیٹھا اُس کو قرآن کریم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی نظر آگئی اور کوئی چیز اس کو اسلام سے ہٹانے والی نہ رہی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جب کرم دین بھیں والا مقدمہ ہو ا تو مجسٹریٹ ہندو تھا آریوں نے اسے ورغلایا اور کہا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ضرور کچھ نہ کچھ سزا دے اور اُس نے ایسا کرنے کا وعدہ بھی کر لیا۔خواجہ کما ل الدین صاحب نے یہ بات سنی تو ڈر گئے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خد مت میں گورداسپور حاضر ہوئے جہاں مقدمہ کے دوران میں آپ ٹھہرے ہوئے