تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 562
اٹھی کہ ہوں تو ہندہ۔مگر اب میں مسلمان ہو گئی ہوں اور خدا تعالیٰ نے اسلام لانے پر میرے سارے گناہ معاف کر دیئے ہیں۔اب آ پ مجھے کچھ نہیں کہہ سکتے۔آپ نے فرمایا۔ہندہ تو ٹھیک کہتی ہے(البدایۃ والنھایۃ فصل مبایعۃ رسول اللہ الناس یوم الفتح علی الاسلام۔الدرالمنثور سورة الممتحنة زیر آیت ۱۰) جس طرح ہندہ کے لئے فتح مکہ آیات ِ مبینات میں سے تھی اسی طرح اُس کی یہ گفتگو ہمارے لئے آیات ِ مبینات میں سے ہے۔ایسی شدید دشمنِ اسلام عورت کو خدا تعالیٰ نے ہدایت دے دی اور اُس کا دل کھل گیا۔اور پھر ایسا دل کھلا کہ وہ بعد میں عیسائیوں کے مقابلہ میں لڑی جانے والی جنگوں میں شامل ہوئی۔اس کا ایک لڑکا یزید جو حضرت معاویہ ؓ سے بڑا تھا اور بہت مخلص تھا اور اس کا خاوند ابو سفیان ؓ جو اسلام لانے سے پہلے اسلام کا شدید دشمن تھا دونوں عیسائیوں کے ساتھ لڑنے کے لئے ایک جنگ میں شریک ہوئے۔عیسائیوں کا لشکر بہت بڑا تھا اور مسلمانوں کی تعدا د اس کے مقابلہ میں بہت کم تھی۔اس جنگ میں ایک موقعہ پر اسلامی لشکر پیچھے کو بھاگا۔بھاگنے والوں میں ابو سفیان اور اُن کے بیٹے یزید بھی تھے۔پیچھے عورتیں کھڑی تھیں۔اگراُ س وقت مسلمانوں کے قدم نہ جمتے تو مدینہ تک دشمن کے راستہ میں کوئی روک نہیں تھی۔ہندہ نے مسلمان سپاہیوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا۔تو اس نے عورتوں کو جمع کیا۔اور کہا مردوں کے پائوں اکھڑ گئے ہیں۔آئو ہم اسلام کے لئے لڑائی کریں انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس لڑنے کے لئے کیا سامان ہے ؟ ہندہ نے کہا سامان تو نہیں ہے لیکن ایک چیز ہے۔خیموں کی چوبیں اتار لو اور ہاتھ میں لے لو۔اور مسلمان سپاہی جو دوڑتے ہوئے آرہے ہیں۔اُن کے اونٹوں کو ان چوبوں سے مارو۔اور کہو بے شرمو !تم کافروں سے بھاگ رہے ہو۔چنانچہ عورتوں نے چوبیں اتار لیں۔ہندہ نے بھی ایک چوب اتار لی۔اور سب عورتوں کو لےکر بھاگتے ہوئے اسلامی لشکر کے آگے کھڑی ہو گئی۔سب سے آگے اُس کا خاوند ابو سفیا ن اور اُس کا بیٹا یزید تھے۔عورتوں نے اُن کے اونٹوں کے مونہوں پر چوبیں ماریں اور کہا بے شرمو ! تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم کافروں کے مقابلہ میں شکست کھا کر بھاگے چلے آرہے ہو۔اس موقعہ پر ہندہ نے ابو سفیان کو مخاطب کرکے کہا جب تو کافر تھا تو بہادری کے ساتھ اونٹ پر سوار ہو کر تو محمد رسول اللہ کے لشکر پر حملہ کرنے جایا کرتا تھا۔اب تُو مسلمان ہو گیا ہے تو تُو عیسائیوں کو پیٹھ دکھا رہا ہے۔تجھے ایسا کرتے ہوئے شرم نہیں آتی۔اس کا ابو سفیان ؓ پر ایسا اثر ہوا کہ اُس نے اپنے بیٹے کی طرف مڑ کر دیکھا اور کہا بیٹا ! عورتوں کے سونٹے عیسائیوں کی تلواروں سے زیادہ خطرناک ہیں چلو واپس لوٹو اب خواہ ہم مر یں یا جیئیں اس کی پرواہ نہیں۔چنانچہ دونوں واپس لوٹے اور پھر سارا اسلامی لشکر بھی واپس لوٹا اور اُن کی شکست فتح سے بدل گئی۔یہ تھی وہ ہندہ جو ایک وقت اسلام کی اتنی شدید دشمن تھی کہ شعر پڑھ پڑھ کر کفار کومسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کے لئے اُکسایا کرتی