تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 561

آپ کے سامنے میں ہمیشہ اپنی آنکھیں نیچی رکھتا اور میں خیال کرتا کہ آپ اتنے معزز اور بلند مقام پر ہیں کہ میرے جیسے گنہگار آدمی کو آپ کا چہرہ دیکھنے کا کوئی حق نہیں۔اے میرے بیٹے ! کفر کی حالت میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے آئے اور ایمان کی حالت میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے آئے لیکن اگر اب بھی مجھ سے کوئی پوچھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ کیا تھا تو میں نہیں بتا سکتا۔کیونکہ کفر میں بغض کی وجہ سے میں نے آپ کی شکل نہیں دیکھی اور ایمان میں محبت اور رعب کی وجہ سے میں نے آپ کی شکل نہیں دیکھی (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ عمرو بن العاصؓ۔والطبقات الکبریٰ لابن سعد، عمرو بن العاص)۔اب دیکھو عاص جیسے شدید دشمنِ اسلام کا بیٹا جو ایمان لانے سے پہلے خود بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت بغض رکھتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو ایمان لانے کی سعادت بخشی۔اور اُسے ایسا مقام دیا کہ اُس نے اسلام کے لئے بڑی بڑی جنگیں لڑیں۔اور مصر کو اسلام کے لئے فتح کیا۔مسلمان جب پڑھتے ہوںگے کہ اسلام کے شدید دشمنوں ولید اور عاص کی اولاد اسلام کی گود میں آگئی اور اُن کے بیٹوں نے اسلام لانے کے بعد بڑی بھاری قربانیاں کیں تو اُن کا ایمان کس قدر بڑھتا ہو گا۔پھر میں نے ہندہ کا واقعہ بیان کیا ہے۔اُس کے بغض کی یہ کیفیت تھی کہ اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ ؓ کا کلیجہ نکلوایا اور آپ کا ناک اور کان کٹوائے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ نے جن لوگوں کے گرفتار کر نے اور قتل کرنے کا حکم دیا تھا اُ ن میں ہندہ بھی شامل تھیں جب عورتوں کی بیعت کا وقت آیا تو ہندہ بھی مونہہ چھپائے اُ ن میں جا بیٹھی اور بیعت میں شامل ہوگئی۔جب قرآنی ہدایت کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اقرار لیا کہ ہم چوری نہیں کریں گی۔زنا نہیں کریں گی۔جھوٹ نہیں بولیں گی ، شرک نہیں کریں گی۔تو اس آخری فقرہ پر کہ ہم شرک نہیں کریں گی۔ہندہ بول اٹھی کہ یا رسول اللہ ! آپ کیا کہتے ہیں۔کیا ہم اب بھی شرک کریں گی۔ہم مکہ والے متحد ہو کر آپ کے مقابلہ میں آئے۔سارا عرب ہمارے ساتھ تھا اور آپ اکیلے تھے۔ہم نے آپ کے ساتھ لڑائی کی مگر آپ نے کہا کہ خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے اور وہ میری مدد کرے گا۔اور ہم نے کہا کہ آپ کا خدا جھوٹا ہے وہ آپ کی مدد نہیں کرے گا۔ہمارے بُت آپ کے خدا سے زیادہ طاقتور ہیں وہ آپ کے خلاف ہماری مدد کریں گے۔مگر ہوا کیا۔ہوا یہ کہ آپ جیت گئے اور ہم ہار گئے۔اگر ہمارے بتوں میں کوئی طاقت ہوتی اور آپ کا خدا جھوٹا ہوتا تو ہم یقیناً جیت جاتے۔اتنے بڑے نشان کو دیکھنے کے بعد اب ہم کس طرح شرک کر سکتی ہیں۔جب ہندہ کی آواز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنی تو آپ نے فرمایا۔ہندہ ہے ؟ وہ جھٹ بول